حکومت توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے، حافظ حسین احمد


اسلام آباد: جعمیت علمائے اسلاف ف کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف پہلے بھی توہین عدالت کرتی رہے ہے اور اب سڑکوں پر کنٹینر رکھ کر بھی توہین عدالت کی جا رہی ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ نے کہا کہ فوج یا اسٹیبلشمنٹ کو حکومت کے ساتھ ہونا چاہیے لیکن سیاسی معاملات میں نہیں بلکہ انتظامی معاملات میں۔

انہوں نے کہا کہ سڑکیں بند نہ کرنا تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو حکومت نے تو جگہ جگہ کنٹینرز لگا دیے ہیں تو حکومت تو ہم سے پہلے ہی توہین عدالت کر رہی ہے۔ ہم وزیر اعظم کی کس بات کو یاد رکھیں کیونکہ وہ تو ہر بات سے ہی مکر جاتے ہیں۔

قمر الزمان قائرہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے تو عام انتخابات والے دن ہی کہہ دیا تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور ہم اسمبلی میں نہیں جائیں گے تو اس وقت وہ کس بیرونی ایجنڈے پر تھے۔ مولانا فضل الرحمان تو ہمارے کہنے پر اسمبلی میں آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کو کس نے نہیں چلنے دیا تھا یہ سب کو معلوم ہے حکومتوں کو کون کس طرح چلاتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کے ساتھ حکومت بھی چلانی ہے جو حکومت کا ہی کام ہے۔ عمران خان کی تو پہلی تقریر جھوٹ پر شروع ہوئی تھی اور اب بھی جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما حافظ حسین احمد نے کہا کہ عمران خان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ فوج ہمارے ساتھ ہے اور مجھ سے پوچھ کر ملاقاتیں کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو آئینی حد تک رہنما چاہے اور اسے ضرورت کے وقت اپنا کردار ادا کرنا چاہیے لیکن اس سے پہلے آرمی چیف قرضے کے لیے کبھی بیرون ملک نہیں گئے اور نہ ہی تاجروں نے ملاقاتیں کی ہیں۔

حافظ حسین احمد نے کہا کہ فوج اگر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو یہ غیر آئینی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے ہم اس کی مخالفت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزیاں تو پی ٹی آئی کرتی رہی ہے۔ ابھی تو ہم مارچ کے لیے نکلے ہی نہیں ہیں اور ان کو ابھی سے پریشانی لگ گئی ہے۔ حکومت بتا دے کہ سڑکوں پر کنٹینرز کیوں لگائے جا رہے ہیں کیا اس سے عوام تنگ نہیں ہو گی اور کیا یہ سپریم کورٹ کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟

جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ شفاف انتخابات کا نہ ہونا ہمارا ایجنڈا ہے۔ حکومت تو ہر دفعہ یوٹرن لیتی رہے ہے۔ مذاکراتی کمیٹی حزب اختلاف سے ملاقات کے لیے بنائی گئی تھی لیکن وہ وزیر اعظم سے ملاقاتیں کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے طرف سے حکومتی کمیٹی سے تمام تر مذاکرات رہبر کمیٹی کرے گی۔ حکومت تو ہمیں احتجاج کرنے کی ہی اجازت نہیں دے رہی تو پھر ہم مذاکرات کس طرح کریں۔

سینئر سیاستدان شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ موجودہ حالات سے لگتا ہے وزیر اعظم عمران خان آزادی مارچ سے بہت پریشان ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے کا بیان بھی دے رہے ہیں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ 100 فیصد ساتھ ہو تو پھر ان کے مقدمات اتنی جلدی نہیں کھلتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ہٹا کر کسی اور کو وزیر اعظم بنانے کو پی ٹی آئی قبول نہیں کرے گی اور عمران خان کسی صورت استعفیٰ نہیں دیں گے۔ پی ٹی آئی کے 10 سے 15 لوگ عدم اعتماد کے لیے تیار ہیں اور وہ کسی وقت بھی سامنے آ سکتے ہے۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حزب اختلاف کہتی ہے مہنگائی اور ہر برائی کی جڑ عمران خان ہے تو وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ کیوں نہیں دیتے ؟ یہ خود تو اسمبلی سے باہر نہیں آتے۔

یہ بھی پڑھیں سیلیکٹڈ حکومت کو مزید نہیں چلنے دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان

انہوں نے کہا کہ تاریخ یہ بھی یاد رکھے گی کہ 70 سال میں چوروں کی حکومت تھی لیکن ہندوستان نے کشمیر کے معاملے پر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھایا لیکن عمران خان نے آتے ہی ایک سال میں کشمیر کو بھارت کی گود میں ڈال دیا۔

سینئر سیاستدان نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ پنجاب کے ہر ضلع میں پاور لومز بند ہو چکی ہیں، آئل ملز، موبائل کی دکانوں سمیت دیگر کارخانے بند ہو رہے ہیں اور حکومت خود کو مسئلہ کشمیر کے پیچھے چھپانا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کالعدم جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنے ساتھ اجلاسوں میں بٹھا رہے ہیں جو فورتھ شیڈول میں ہیں ان کی وجہ سے ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ نہیں ہو رہا ؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں میڈیا پر بیٹھ کر بڑی اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں لیکن وہ اپنی ماضی کی چیزوں کو بھی یاد رکھا کریں۔ اگر آج اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں تو ساری سیاسی جماعتوں کو خوش ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کا مقصد تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو بھی معلوم نہیں ہے۔ سب سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے نکل رہے ہیں۔ بلاول  بھٹو سندھ میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور پانچ سال انتظار کریں ان کے پاس گراؤنڈ موجود ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ حزب اختلاف کے سارے دعوے کھوکھلے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمان کا خیال تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ عوام کو جمہوریت پر جو تھوڑا بہت اعتماد ہے وہ بھی حزب اختلاف کی الٹی سیدھی حرکتوں کی وجہ سے ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی تو ہماری وجہ سے نہیں ہوئی یہ تو گزشتہ حکومت کی وجہ سے ہے۔ عمران خان تو ملک کو دلدل سے نکالنے آیا ہے۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر تو کوئی بھی احتجاج کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ لکھے گی جب 90 لاکھ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو پاکستان میں چند سیاستدان اپنا حصہ مانگنے میں مصروف تھے۔ اگر حزب اختلاف نے احتجاج کا شور نہیں مچایا ہوتا تو آج میڈیا پر کشمیر کی بات ہو رہی ہوتی۔


متعلقہ خبریں