پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

غیر ملکی فنڈنگ کیس، ’ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دے سکتا ہے‘

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) غیر ملکی فنڈنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا جس میں الیکشن کمیشن نے پارٹی کے وکیل پر اعتراض اٹھا دیا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ ثقلین حیدر بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل سیاسی جماعت کا کیس لڑنے کا حق نہیں رکھتے۔

فیصلے کے مطابق پارٹی فنڈنگ کیس میں ریاست اہم فریق، ریاست اور پارٹی کا وکیل ایک کیسے ہوسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ پارٹی فنڈنگ کیس قانونی طریقہ کار کی بد ترین مثال ہے۔

فیصلے کے مطابق تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کا نام استعمال کرکے معاملہ تاخیر کا شکار کیا۔

الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ اکبر ایس بابر نے شواہد دینے ہیں، اسکروٹنی کمیٹی کو کارروائی سے کیسے باہر کیا جاسکتا ہے۔

غیر ملکی فنڈنگ کیس

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے منحرف کارکن اکبر ایس بابر نے 2014 میں ای سی پی میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے سے پی ٹی آئی ورکرز کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

بعد ازاں پی ٹی آئی نے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بذریعہ تحریری درخواست استدعا کی کہ ای سی پی کو اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے روکا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کے پاس بھیج دیا۔

ای سی پی نے مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے غیر ملکی فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی بنا دی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز