حکومت نے اپوزیشن کا آزادی مارچ عدالتی فیصلے سے مشروط کردیا

‘ جے یو آئی سے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سےبھی بات کریں گے’

فائل فوٹو

اسلام آباد: حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق اپوزیشن کو آزادی مارچ کی اجازت دی جائے گی۔ اندرون خانہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اجتماع کے لیے پریڈ گراؤنڈ کی پیشکش کی جائے گی۔

ہم نیوز کے مطابق حکومتی کمیٹی کے سربراہ وزیردفاع پرویز خٹک ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ رہبر کمیٹی کی شرط تھی کہ ہمارے جلوسوں کو نہ روکا جائے تو ہم نے ان کو پیشکش کی ہے کہ ان کے جلوسوں کو نہیں روکا جائے گا۔

حکومتی کمیٹی آئے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر آئے، مولانا فضل الرحمان

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اپوزیشن سے ہونے والی بات چیت میں وزیراعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی لوگوں پرکوئی دباؤ نہیں ہوتا ہے۔

وزیردفاع پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن کو لانگ مارچ کرنے کا جمہوری حق حاصل ہے تاہم ڈی چوک پر دھرنے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کے مطابق اپوزیشن کو احتجاج کا حق دیا جائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق پرویز خٹک اور اسد عمر پرنے وفاقی وزیر اور جی ڈی اے کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور بیرسٹر سیف اور چودھری برادران سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور اپوزیشن کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے صلاح و مشورہ کیا۔ حکومتی ٹیم نے اپنے سیاسی اتحادیوں سے حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ چودھری برادران سے ہونے والی ملاقات میں قائم مقام صدر صادق سنجرانی بھی موجود تھے۔

ہم نیوز کے مطابق قائم مقام صدر صادق سنجرانی اور پرویز خٹک کی چودھری برادران سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے سابق وزیراعظم  چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی۔

آزادی مارچ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ہر سڑک پر لڑائی ہو گی، اکرم درانی

ذمہ دار ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم کی چودھری براداران سے ہونے والی ملاقات میں اپوزیشن کے آزادی مارچ، دھرنے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بات چیت کے دوران چودھری پرویز الٰہی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ہونے والے رابطے پر بھی مشاورت ہوئی۔

ہم نیوز کے مابق ہونے والی بات چیت میں اراکین قومی اسمبلی مونس الٰہی، سالک حسین اور صوبائی وزیر معدنیات حافظ عمار یاسر بھی شریک تھے۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے اس موقع پرکہا کہ سیاسی لوگوں پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ اپوزیشن اب مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق اپوزیشن کو احتجاج کی اجازت دی جائے گی۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے اس موقع پر کہا کہ 2014 کا تحریک انصاف کا دھرنا عدالت کی اجازت سے ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور اسد عمر مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس سے احتجاج بھی ہو اور عوام کی زندگی متاثر بھی نہ ہو۔

سیاسی بریک تھرو: چودھری برادران کا میاں برادران سے رابطہ

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے عوام کس کے ساتھ ہیں؟ یہ بہت واضح ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے کبھی بھی عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔

ہم نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پرویز خٹک اور اسد عمر سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں کہا کہ ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے لیکن احتجاج سے عام آدمی کی زندگی متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اپنا مقدمہ تو پورا پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن ڈی چوک آنا چاہتی ہے اور عدالت انہیں اجازت دیتی ہے تو یہ ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج فساد کا باعث نہ بنے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس احتجاج کے حق کو تسلیم کرے۔

حکومتی کمیٹی کے اراکین وزیردفاع پرویز خٹک اور اسد عمرنے جی ڈی اے کی رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے بھی ملاقات کی اورحکومتی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

آزادی مارچ: وزیراعظم، پرویز خٹک میں رابطہ

ہم نیوز کے مطابق پرویز خٹک نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ ہم نے تمام جماعتوں سے بات کی ہے لیکن کسی نے ہم سے نہیں کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری پارٹی ہیں اور جلوس و دھرنے ہم نے بھی کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالت کے فیصلے کے خلاف کام کریں گے تو پھر حکومت اپنا کام کرے گی۔

حکومتی کمیٹی کے رکن اسد عمر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میزبانی ان کی کی جا سکتی ہے جو آئین کے تابع ہوں انہوں نے کہا کہ ایک کیس میں ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈی چوک میں جلسہ نہیں کرسکتے ہیں تو اس فیصلے کے بعد ہم نے کوئی جلسہ یا دھرنا ادھر نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز