اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پیشکش کردی: پریڈ گراؤنڈ میں احتجاج کرلیں

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے پیشکش کردی: پریڈ گراؤنڈ میں احتجاج کرلیں

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے حزب اختلاف کی جماعتوں کو پیشکش کی ہے کہ وہ پریڈ گراؤنڈ میں احتجاج کریں تو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومتی اور رہبر کمیٹیوں کے اجلاس کے دوران ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران درانی ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو اپنی پیشکش سے آگاہ کیا۔

محمد علی درانی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، اہم پیغام پہنچایا

ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے افسران نے اپنی آمد کے متعلق کہا کہ وہ حزب اختلاف سے تمام نکات پر بات چیت کرنے کے لیے آئے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق حکومتی کمیٹی کے سربراہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک جب مذاکرات کے لیے پہنچے تو انہوں نے اپنے سابقہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے استعفے پر کوئی بات نہیں ہوگی۔

ہم نیوز کیے مطابق قائم مقام صدر مملکت صادق سنجرانی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی بھی حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ہمراہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اس موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور صادق سنجرانی تو مفاہمت کرانے آئے ہیں۔

حکومتی کمیٹی آئے تو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر آئے، مولانا فضل الرحمان

ذرائع کے مطابق حکومتی اور رہبر کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں قائم قام صدر صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزرا شفقت محمود، نورالحق قادری، ایم این اے اسد عمر اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی موجود ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سامنے اپنا چار نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ رکھ دیا ہے۔

اپوزیشن کے چار نکات میں وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ، نئے انتخابات کا انعقاد، آئین میں موجود اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالا دستی شامل ہیں۔

آزادی مارچ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو ہر سڑک پر لڑائی ہو گی، اکرم درانی

امیر جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے کچھ دیر قبل رہبر کمیٹی کو فون پر ہدایت دی تھی کہ حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے عمل کو طول نہ دیا جائے اور براہ راست اس کے سامنے چارٹر آف ڈیمانڈ رکھ کر بات کی جائے۔

لاڑکانہ سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے اکرم خان درانی سے کہا تھا کہ مذاکرات کو طول دینے سے آزادی مارچ کے متعلق تاثر متاثر ہوگا۔


متعلقہ خبریں