اورنج لائن منصوبہ: آزمائشی  بنیادوں  پر  ٹرین  چلانے  کے  اعلان  پر عملدرآمد نہ ہوسکا

اورنج لائن منصوبہ: وزیراعلیٰ پنجاب سپریم کورٹ میں طلب

لاہور: پنجاب  حکومت اورنج لائن ٹرین منصوبے کے افتتاح کی تاریخ پر تاریخ دینے لگی۔   آزمائشی  بنیادوں  پر  ٹرین  چلانے  کے  اعلان  پرعملدرآمد ممکن   نہ ہوسکا،منصوبہ چار سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکا  ماس  ٹرانزٹ  اتھارٹی منصوبے پر بات کرنے سے گریز کررہی ہے ۔

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے گزشتہ ہفتے لاہور کے باسیوں کو خوشخبری دی کہ اورنج لائن ٹرین کا پہیہ اب چلنے کو تیار ہے لیکن یہ خوشی محض وقتی ہی  ٹھری کیونکہ آزمائشی  بنیادوں  پر  ٹرین  چل  ہی  نہ  سکی۔

لاہور کے شہری کہتے ہیں اورنج لائن ٹرین منصوبہ ان کیلئے درد سر بن چکاہے۔حکومت  اس  منصوبے  کو  فوری  مکمل  کرے۔

شہریوں کا کہناہے کہ سیاستدانوں کی  آپس کی لڑائیاں اور شہری پس رہے ہیں ئنارا کیا قصور ہے بئت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے

اورنج لائن ٹرین منصوبہ ن لیگ نے دوہزار پندرہ میں شروع کیا جسکی ابتدائی  لاگت ایک کھرب باسٹھ ارب ساٹھ کروڑ تھی  اور  اسے  ستائیس ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہونا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:  سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم، اورنج لائن منصوبہ تکمیل کا منتظر

تین سال بعد منصوبہ تو مکمل نہ ہوا البتہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے منصوبے کی لاگت دو کھرب چوبیس ارب تیس لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔

لاہور شہر کے دکانداروں کا کہناہے کہ کاروبار تباہ ہوچکے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہم تو اب مایوس ہوتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:اورنج لائن میٹرو ٹرین 28 اکتوبر سے چلے گی

ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ڈیراں گجراں سے انار کلی تک تیرہ اسٹیشنوں پرکام مکمل ہے،ٹریک کی ٹیسٹنگ اور دیگر گیارہ اسٹیشنوں پر کام جاری ہے ۔

صوبائی  حکومت  کی  جانب  سے  اس  سے  پہلے  بائیس  اکتوبراور پھر اٹھائیس اکتوبرکو  پورے  ٹریک  پر  ٹرین  چلانے  کا  اعلان  کیا جاچکا  ہے۔ اب نئی تاریخ کا اعلان کب ہوگا عوام  ایک بار  پھر  منتظر  ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز