ایکشن ہوا تو حکومت کا ری ایکشن بھی ہو گا،فردوس عاشق

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی مشیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کوئی ایکشن کیا گیا تو حکومت کا بھی ری ایکشن ہو گا۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پیمرا کا اپنا قانون اور اختیارات ہیں جس کے دائرے میں رہ کر وہ کام کرتی ہے اس میں حکومت اور وزارت ہر معاملے پر بات چیت نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہیں ایسا نہیں ہے جس سے لگتا ہو کہ صحافت پر پابندی عائد کی جا رہی ہو۔ اینکرز کسی بھی معاملے پر فیصلہ نہیں دے سکتے صرف بحث کر سکتے ہیں۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور موجودہ حکومت کسی بھی طور پر صحافیوں پر قدغن لگانے کے خلاف ہے اور نہ لگانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی شخص کو معاملے کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہے تو وہ کس طرح ٹی وی پر بیٹھ کر تجزیہ کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے انتشار پھیلتا ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ پیمرا اور پی بی اے جب تک ایک پیج پر نہیں ہوتے تو مشاورت بے معنی ہوتی ہے۔ ہم صحافیوں کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن وزیر اعظم چاہتے ہیں ملک کے مفاد میں جو بہتر ہے وہ کیا جائے۔ پیمرا اپنے نوٹیفکیشن کے بارے میں جلد وضاحت جاری کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی طور پر میڈیا کی آواز بند کرنا نہیں چاہتی۔ پیمرا کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے تاہم مل بیٹھ کو کوئی ایسا لائحہ عمل جاری کر سکتے ہیں جس سے صحافت پر قدغن نہ لگے۔ میں پیمرا اور پی بی اے کے درمیان پل کا کردار ادا کروں گی۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر عدالت اینکرز کو بلاتی ہے تو اس میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے ہٹ کر ہم کوئی کام نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے اہداف بلاجواز ہیں اور ان کے مارچ میں مسلح افراد شامل ہیں۔ انصار الاسلام کو کالعدم قرار دیا گیا ہے لیکن ان کے افراد کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں اور لیویز اہلکاروں پر حملہ کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ ملیشیا بنانے کی اجازت پاکستان میں نہیں ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ پرامن مارچ اور احتجاج ہر شخص کا حق ہے لیکن مسلح ہو کر آنا کسی صورت درست نہیں ہے۔ کالعدم تنظیمیں اس ملک میں کسی صورت امن کو دیکھنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹر حمد اللہ کا غیر ملکی ہونا بہت دیر سے معلوم ہوا جو ہماری بدقسمتی ہے اور وہ شخص سینیٹر بھی بن گیا جب ادارے کمزور ہوں تو پھر اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ غیر ملکی جو پاکستانی بن کر رہ رہے ہیں انہیں سامنے لایا جائے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو کوئی بھی نہیں سننا چاہ رہا اور کسی کو نہیں معلوم وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کوئی ایکشن کیا گیا تو حکومت کا ری ایکشن بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو استعمال کیا جا رہا ہے اور دونوں سیاسی جماعتیں جو اب قانون کے شکنجے میں ہیں ان کے کہنے پر مولانا فضل الرحمان سب کچھ کر رہے ہیں۔ قوم کے لوٹے ہوئے پیسے سے آزادی مارچ کیا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف سیاست نہیں مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ بلاول بھٹو لاڑکانہ میں شکست کے بعد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ اپنا قد اونچا کرنے کے لیے وزیر اعظم پر تنقید کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی انصاف چاہتی ہے تو وہ نواز شریف کی طرح عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں حکومت کی طرف نہ دیکھیں۔

متعلقہ خبریں