مرکزی بنک نے چھوٹے کاشتکاروں کے لئے قرض کا حصول آسان بنادیا

اے ڈی بی فنڈ کی پہلی قسط پاکستان کو وصول

فوٹو: فائل

کراچی:مرکزی بنک نے چھوٹے کاشتکاروں کے لئے قرض کے حصول کو آسان بنادیاہے۔  اسٹیٹ بینک نے الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید کو بینک فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے بطور ضمانت استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

کاشت کار  برادری کو درپیش مالیات تک رسائی کے چیلنج سے نمٹنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا تے ہوئے بینک دولت پاکستان نے زرعی قرضوں، ایس ایم ای فنانسنگ اور کارپوریٹ و کمرشل بینکاری کے پروڈنشیل ریگولیشنز میں ترمیم کی ہے۔

اس ترمیم کے تحت بینکوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ الیکٹرانک ویئرہاؤس رسید (receipt) کو زرعی پیداوار اور اجناس کی ذخیرہ کاری پر قرض دینے کے لیے بطور ضمانت استعمال کر سکتے ہیں۔

ویئرہاؤس رسید فنانسنگ (WHRF) ایک ایسا طریقہ کار  ہے جس کے تحت کاشت کار، تاجر اور پروسیسر تسلیم شدہ ویئرہاؤسز میں اپنی  ذخیرہ شدہ پیداوار اور زرعی اجناس کی ضمانت دیتے وقت ا سے بطور سیکورٹی رکھ کر بینکوں سے فنانسنگ کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔

ویئرہاؤس رسید فنانسنگ سے چھوٹے کاشت کاروں کو فائدہ پہنچے گا ۔ جن کے  پاس ضمانت کے طور رکھوانے کے لیے زمین نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بینکوں سے قرضوں کے حصول  میں مشکل پیش آتی ہے۔

ویئرہاؤس رسید فنانسنگ سے اجناس کی مارکیٹ کو مالی سیالیت فراہم ہو گی اور  غذائی سلامتی  میں بہتری لانے اور قیمتوں کے استحکام میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے بنک اکاؤنٹس کی بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت 

اسٹیٹ بینک اور حکومت   زرعی شعبے اور دیہی آبادی خصوصاً چھوٹے کاشت کاروں کو ادارہ جاتی فنانسنگ کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے سیکوریٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے اسٹیٹ بینک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے  کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت 31 جولائی 2019ء کو   ضمانت کے انتظام کی کمپنیوں (CMC) کے ضوابط 2019ء جاری کیے ۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز