ٹرین کا سانحہ لیاقت پور: سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل

ٹرین کا سانحہ لیاقت پور: سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹرین کے سانحہ لیاقت پور کا ازخود نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ 75 لوگوں کا جلنا اور مرنا معمولی واقعہ نہیں ہے۔

ہم نیوز کے مطابق کراچی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے پہلے وزیراعظم خود اعلان کرچکے ہیں کہ جودھرنا دے گا ہم اسے کنٹینراورکھانا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کی آج پہلی رات ہے، دیکھتے ہیں کہ حکمران ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں یا نہیں؟

آزادی مارچ:وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو خوفزدہ ہونیکی ضرورت نہیں، آئی جی اسلام آباد

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میری رائے ہے کہ جمہوری حکومت میں لوگوں کو احتجاج کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ عمران خان اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

حکومت پرکڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ جون میں حکومت نے جو بجٹ پیش کیا اس میں غریب عوام  پرمہنگائی، بیروزگاری اور نئے ٹیکسز کے کوڑے برسائے تھے۔ انہوں  نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس پراحتجاجی تحریک چلائی۔

ہم نیوز کے مطابق سینیٹر سراج الحق نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی زندگی و موت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست سے اب تک جماعت اسلامی نے کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پراٹھایا ہے۔

کسی مارچ اور دھرنے کا خوف نہیں ہے ، وزیراعظم عمران خان

ہم نیوز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ موجودہ وزیر ریلوے کے دور میں ٹرین کا یہ 19 واں واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب امید کرتے ہیں کہ  شیخ رشید کے لیے استعفی کی بسم اللہ کا وقت آگیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا حصہ رہ چکنے والے جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ اگر حکومت اپوزیشن سے پہلے بات کر لیتی تو آزادی مارچ کی نوبت نہ آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر جماعت اسلامی سے پہلے بھی رابطہ رہا ہے۔

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کے متعلق انہوں نے کہا کہ میں ان کا پرانا مداح ہوں۔ ممتاز ماہر قانون نے کہا کہ بھارتی آئین کی شق 307 کا خاتمہ ایسا ہی ہے جیسے اپنے پاؤں پر خودکلہاڑی مارنا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ایک اسپیشل اسٹیٹس دیا تھا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج نے مشورہ دیا کہ آئینی و قانونی امور کو لے کر اقوام متحدہ میں جانا چاہیے اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سے رجوع کرنا چاہیے۔

حکومت کو لوگ مزید برداشت نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان

جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے تجویز پیش کی کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی کو خود مختار کرنا چاہیے اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کو خود مختار ہونا چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کا جو ضمیر ہے اسے جگانے کے لیے یہ 85 دن بھی کافی نہیں ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اب حکومت پاکستان اور پاکستانیوں کو ہی کچھ کرنا ہوگا کیونکہ اب 26 اکتوبر 1947 والی صورتحال ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم کشمیریوں کی جو مدد کرسکتے ہیں وہ کرنی چاہیے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ہم مسئلہ کشمیر پر جماعت اسلامی کے ساتھ ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز