جلسے میں ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، حزب اختلاف

اسلام آباد: حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جلسہ کے دوران ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جبکہ جلسے میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو دونوں شریک ہوں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نواز شریف کی صحت کو دیکھ رہے تھے لیکن نیب کی حراست میں جانے کے بعد ڈاکٹر عدنان کو بھی نواز شریف سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پلیٹ لٹس کا معاملہ زیادہ خراب ہو گیا تھا اور ابھی تک کنٹرول میں نہیں آ رہا۔ ان کی پلیٹ لٹس کبھی زیادہ ہو جاتی ہیں اور کبھی کم۔

سینیٹر پرویز رشید نےکہا کہ نواز شریف کو جب تک اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی نہیں دی جا سکتی اس وقت تک وہ اپنے علاج سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے۔ عدالت نے 8 ہفتوں کی آزادی دی ہے لیکن اتنے کم وقت میں بیرون ملک علاج کرانا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا لاہور پہنچنے پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھرپور استقبال کیا گیا تھا۔ شہباز شریف جلسے میں بھی شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبوں کی حمایت کی ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ روات میں بھی میں نے اور احسن اقبال نے اپنے کارکنان کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا کا بھرپور استقبال کیا۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ جلسے کے آغاز کے بعد تمام جماعتیں مل کر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ دھرنا اگر پر امن ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن دھرنا پرتشدد نہیں ہونا چاہیے۔

ٹرین حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے پر بہت سے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں جن پر عمل کر کے دہشت گردی سے محفوظ رہا گیا لیکن اگر گیس سلنڈر ٹرین میں موجود تھا تو یہ حکومت کی ناکامی ہے۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہ تبلیغی جماعت والے بھائی سفر کے دوران اپنے ہمراہ بہت سارا سامان لے کر چلتے ہیں اور ریلوے میں کوئی باقاعدہ چیکنک کا نظام موجود نہیں ہے۔ بدقسمت حادثے میں لوگوں کی بھی غلطی ہے اس کا مکمل طور پر ذمہ دار ریلوے کو ٹھرایا نہیں جا سکتا۔

آزادی مارچ سے متعلق بات کرتے ہوئے قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آج مولانا کے جلسے میں شرکت کریں گے اور خطاب بھی لازمی ہو گا کیونکہ کل جمعہ کو ہمارا رحیم یار خان میں جلسہ طے ہے وہاں بھی بلاول بھٹو نے خطاب کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلسہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جس میں حزب اختلاف شریک ہو رہی ہے یہ حزب اختلاف کا مارچ یا جلسہ نہیں ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما مولانا عطاالرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کے پہنچنے کے بعد جلسہ ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل وہیں طے کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو اور شہباز شریف دونوں جلسے میں شرکت کریں گے اور دونوں جماعتوں کی بھرپور حمایت ہمیں حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے جو مطالبات سامنے رکھے ہیں انہیں مطالبات کو ہم آگے لے کر چلیں گے۔ حکومت ہمیں برداشت نہیں کر رہی۔ جلسے میں تقریبا 15 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں جلسے کے معاملے پر ن لیگ اور جے یو آئی کے متضاد بیانات

وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے کہا کہ آزادی مارچ کراچی سے اسلام آباد تک پر امن رہا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ لوگوں کی کوشش تھی کہ حالات خراب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے مطالبات پر حکومت کمیٹی بنا چکی ہے اور اس پر مذاکرات جاری رکھے جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے تمام مطالبات کے ساتھ تو مسلم لیگ ن بھی نہیں ہے انہیں اپنے مطالبات میں نرمی لانا پڑے گی۔

ندیم افضل چن نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا نہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے تو وہ اپنا جلسہ ہی کریں گے۔ حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے مکمل تیاری کر رکھی ہے لیکن ہم کسی بھی معاملے پر پہل نہیں کریں گے۔

ٹرین حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیز گام حادثے پر شفاف تحقیقات ہوں گی اور نااہلی کا تعین کیا جائے گا۔ حزب اختلاف کو چاہیے تھا کہ اپنا جلسہ دو روز کے لیے ملتوی کر دیتے۔

متعلقہ خبریں