جے یو آئی ف کا اجلاس، کوئی اہم فیصلہ نہ ہو سکا

پاکستان صرف 24 گھنٹوں میں بند ہوچکا ہے، مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے اجلاس میں کوئی اہم فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ ہوا۔

آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے جے یو آئی ف کا اہم اجلاس ہوا جس میں تمام حزب اختلاف کی مرکزی قیادت سے رابطہ کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ ہوا۔ جو مولانا فضل الرحمان کے گھر پیر کو ایک بجے ہو گی۔ جس میں مولانا فضل الرحمان اپنے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم کو دی گئی ڈیڈ لائن میں بھی ایک دن کا اضافہ کیے جانے کا امکان ہے جبکہ کل پیر کو جے یو آئی کا اہم اجلاس دوبارہ طلب کر لیا گیا۔

سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پلان بی پر بھی غور شروع کر دیا ہے جس میں اسلام آباد  لاک ڈاؤن، ملک گیر پہیہ جام، ملک گیر شٹر ڈاؤن، صوبائی و ضلعی سطح پر لاک ڈاؤن شامل ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پارٹی کے طویل مشاورتی اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں کے رویے پر مشکل کا شکار ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کی تجاویز اور کارکنوں کے جذبات کی کشمکش میں پھنس گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے سینیٹر طلحہ محمود اور کامران مرتضٰی کو بھی طلب کرلیا، کامران مرتضٰی نے اجلاس میں قانونی و آئینی نکات پر اجلاس میں بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ سینیٹر طلحہ محمود نے دیگر سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی تنطیموں سے رابطوں پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں کارکنوں میں پائے جانے والے جذبات سے متعلق بھی امور پر غور کیا گیا۔ گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر پارٹی رہنماؤں نے دھرنے کے شرکاء میں وقت گزرا تھا۔

ذرائع کے مطابق دھرنے میں پائے جانے والے کارکنوں کے جذبات پربھی صوبائی امراء نے بریفنگ دی۔

ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے ناکامی کے ساتھ واپس جانے کے آپشن کو مسترد کردیا اور اجلاس میں ڈی چوک جانے اور چند روز میں واپسی پر غور کیا گیا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) سربراہ نے حکومت کو مزید 24 گھنٹے کی مہلت دینے پر بھی مشاورت کی۔

مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آزادی مارچ جمعرات کو اسلام آباد پہنچا۔ ایک روز بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کے لیے دو روز کی مہلت دی تھی جو آج ختم ہورہی ہے۔

آج سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ میرے منہ سے تین الفاظ یعنی این آر او سننا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے حزب اختلاف کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں این آر او نہیں دوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ان کو ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے، ملک ترقی کی راہ پر نہیں آسکتا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز