ریاست کو کسی صورت کمزور نہیں پڑنے دیں گے، وزیراعظم

۔—فائل فوٹو۔


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست پہلے سیاست بعد میں آتی ہے، کسی صورت ریاست کو کمزور نہیں پڑنے دیں گے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کے دوران کہی جس کے دوران ملکی تازہ سیاسی صورت حال سمیت آئینی اور قانون امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور سب پر یکساں اطلاق ہو گا۔ اپنا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک سب جگہ خود پیش ہوا ہوں۔

انہوں نے ملکی اداروں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا استحکام اداروں کے ساتھ وابستہ ہے۔

اس موقع پر بابر اعوان نے کہا کہ مولانا کے دھرنے کی اصل وجہ معیشت میں بہتری ہے اور یہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشروط اجازت صرف مارچ کے لیے تھی، دھرنے کے لیے نہیں، مولانا کے مارچ کے باعث کشمیر کاز منظر عام سے غائب ہو گیا۔

بابر اعوان نے کرتار پور راہداری کی بروقت تکمیل پر وزیراعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہو گا۔

اس کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ زائرین کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔

ملاقات میں معیشت کی بہتری کے لئے حکومتی اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ استحکام کے لئے کی جانے والی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 32 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی جبکہ تجارتی خسارے میں کمی اور برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہنا کہ اقدامات جاری ہیں، آنے والے چند ماہ میں مزید بہتری آئے گی۔


متعلقہ خبریں