’مولانا فضل الرحمان بند گلی سے نکلنے کی کوشش کریں گے‘

اسلام آباد: سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کا سہارا لیتے ہوئے بند گلی سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے کارکنان کو خوش رکھنے کے لیے سخت لہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان رہبر کمیٹی کا سہارا لیتے ہوئے بند گلی سے نکلنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مذہب کا کارڈ استعمال کر رہے ہیں اور انہیں تمام معاملات میں خرابیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس وقت وہ فوج کو بھی ٹارگٹ کر رہے ہیں جن کا وہ ہمیشہ سہارا لیتے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حیثیت کو ثانوی کر دیا ہے۔

ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ اس آزادی مارچ کے بعد مولانا فضل الرحمان کی موجودہ حیثیت پھر سے ختم ہو جائے گی اور وہ اپنی سابقہ حیثیت پر ہی چلے جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے مطالبات سے میں اتفاق نہیں کرتا ہوں وہ ایک جتھا جمع کر کے لے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتساب کے عمل میں بہت سے بہتری کی گنجائش ہے اور احتساب کے بارے میں مشہور ہے کہ احتساب کا عمل شفاف نہیں ہے اور انتقام لیا جا رہا ہے۔ یہ سوچ اداروں کے استحکام کے لیے درست نہیں ہے۔ کوئی ایسے اقدام کرنے کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کا اداروں پر اعتماد بحال ہو۔

سینیئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ لگتا ہے مولانا فضل الرحمان کے اداروں کے ساتھ معاملات خراب ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ بار بار تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ماہر قانون راجہ عامر عباس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جن نکات پر آئے ہیں انہیں بھی معلوم تھا کہ عملاً یہ ناقابل قبول ہیں۔ اب مولانا فضل الرحمان اب کچھ دوسری چیزوں کی طرف آ رہے ہیں جنہیں وہ عوامی بحث کرانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دیگر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو بہت ساری چیزوں کا علم پہلے سے ہو گا اور یہ بھی کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ہم پارلیمنٹ کو دیکھیں وہ ہمیں کیا دے رہی ہے ؟ ہماری پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی اور کئی بل تاخیر کا شکار ہیں۔

راجہ عامر عباس نے کہا کہ حزب اختلاف کی لیڈر شپ خاموش اور پریشان ہے اس لیے فوری انتخابات کا امکان تو نہیں لگ رہا۔ نواز شریف کو 8 ہفتے کی ضمانت علاج کے لیے ملی ہے اور وہ ملک سے باہر بھی جا سکتے ہیں۔ عدالت نے انہیں باہر جانے سے نہیں روکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے احتساب کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور ہمارے ادارے بہتر ہو رہے ہیں کہ نہیں۔

ماہر قانون ضمیر گھمرو نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا شو بہت اچھا ہے اور حکومت کو کچھ نہ کچھ تو آزادی مارچ والوں کو دینا پڑے گا تاہم حکومت انتخابات کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ اس کا انہیں نقصان بھی ہوسکتا ہے دیگر جماعتیں بھی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پارلیمنٹ میں اکثریت نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں قانون سازی میں مشکلات کا سامنا ہے اس لیے وہ صدارتی آرڈیننس کا سہارا لے رہے ہیں۔

ماہر قانون نے کہا کہ گزشتہ تمام انتخابات میں ہی مسائل رہے ہیں، موجودہ انتخابات کے معاملے پر کمیشن بنانے کی بات آ رہی ہے تو ممکن ہے کمیشن بننے پر اتفاق ہو جائے۔ احتساب کے معاملے کو شروع سے ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ دھرنے کی مقامی سطح پر اثرات تو ہوتے ہیں لیکن عالمی سطح پر بھی اس کے نقصانات ہوتے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے منع کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور انویسٹمنٹ نہیں آ رہی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معیشت کی حالت اتنی خراب نہیں جتنی حزب اختلاف کہتی ہے اور اتنی اچھی بھی نہیں جتنا حکومت کہہ رہے ہے۔ اکتوبر میں سیمنٹ کی ایکسپورٹ بڑھی ہے اور ڈیم کا کام شروع ہوتے ہی سیمنٹ اور سریہ کے مانگ مزید بڑھ جائے گی۔

ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت چھوڑ دیتی ہے تو کیا حزب اختلاف کے پاس کوئی روڈ میپ ہے جس سے معیشت بہتر ہو جائے گی اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر حزب اختلاف کو چاہیے کہ حکومت کو مزید کچھ کام کرنے دے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ محاذ آرائی سے گریز کرے اور حزب اختلاف کو ساتھ لے کر معیشت کو بہتر کرنے کی کوشش کرے ۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز