ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ


اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ حزب اختلاف نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ محمد آصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکا کو حکومت کی جانب سے کوئی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں  بلکہ انٹرنیٹ کی سہولیات بھی بند کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے اطراف سیکیورٹی دینے والے اہلکاروں اور سی ڈی اے کے ملازمین کو بھی سہولیات نہیں دی جا رہیں اور انہیں نہ صرف کھانا پینا بھی آزادی مارچ انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے بلکہ ان کے سونے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسپتالوں کو آزادی مارچ کے شرکا کا علاج کرنے سے مدد کر دیا گیا ہے جبکہ اطراف کی مساجد کو یا تو بند کر دیا گیا ہے یا پھر ان کا پانی بند کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے شرکا کی موٹر سائیکلیں بھی چوری کی جارہی ہیں حالانکہ وہاں پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ لاہور میں آزادی مارچ کے باوجود میٹرو بسیں چل رہی تھیں لیکن اسلام آباد میں گزشتہ 8 روز سے میٹرو بس سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں وزیراعظم کےاستعفے کے متبادل بہت ساری پیشکش ہیں، پرویز الہیٰ

انہوں نے کہا کہ آج قومی اسمبلی میں جو بھی قانونی کارروائی کی گئی ہے وہ غیر قانونی ہے۔ قومی اسمبلی میں قانون سازی کا مذاق اڑایا گیا۔ جعلی ووٹوں پر منتخب ہونے والے ڈپٹی اسپیکر سے ہی اس قسم کی قانون سازی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر کے 65 ہزار جعلی ووٹ نکلے لیکن اس کے باوجود وہ اسمبلی کی کارروائی چلا رہے ہیں۔


متعلقہ خبریں