مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ٹرین سروس11 نومبر کو دوبارہ شروع ہوگی

بھارت فوری طور پر بے گناہ کشمیریوں کو رہا کرے، امریکی کانگریس

فوٹو: فائل

جموں :مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ٹرین سروس11 نومبر سے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔بانیہال اور بارہ مولہ کے درمیان ریل سروس کو خطے کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کے بعد معطل کردیا گیا تھا۔

ڈ ویژنل کمشنر ، کشمیر ، بصیر احمد خان نے ریلوے حکام سے تین دن کے اندر پٹریوں کا معائنہ کرنے کو کہا ہے۔ ٹرائل رن 10 نومبر کو ہوگا۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بانیہال سے بارہمولہ تک وادی بھر میں روزانہ تقریبا 26 ٹرینیں چلتی تھیں ۔ان کارروائیوں میں قریب 1000ریلوے ملازمین اور اتنے ہی سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر رشید زینہ پوری نے بتایا کہ گزشتہ 13 ہفتوں میں ریلوے محکمے کو تقریبا تین کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے، جو یومیہ تقریبا 3 لاکھ بنتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے پورے ملک کی طرح کشمیر میں بھی کچھ خاص آمدنی حاصل نہیں کر رہی اور ایسی صورتحال میں نقصان ہونا محکمے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے ایام میں عوام کے لیے ریلوے سہولیات بحال کی جائیں گی۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے بانیہال تک چلنے والی اس ٹرین میں روزانہ ہزاروں افراد سفر کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹرس کے مطابق بدھ کے روز ، سپریم کورٹ نے مرکز اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے 5 اگست کو پابندیاں عائد کرنے کے بعد عوامی نقل و حمل اورگاڑیوں کی تعداد سے متعلق تفصیلات طلب کیں۔ تین ججوں کے بنچ نے انتظامیہ کے نمائندوں سے پوچھا کہ کیا عوامی نقل و حمل پر پابندی ہے؟کیابسوں یا ٹرکوں کو چلنے کی اجازت نہیں دی جارہی؟ کل صبح ، آپ کو سب سے پہلے ہمیں یہ بتانا ہو گا ، کہ کتنی بسیں ، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرک چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ کشمیر کی تاریخی عمارات کے نام تبدیل

ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق عدالت عظمیٰ، کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلی غلام نبی آزاد کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے کیونکہ کسان فصلیں نہیں لے جا سکتے اور بیمار افراد اسپتال نہیں جاسکتے ۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز