قرضے پہلی بار 33 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرگئے

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق حکومتی قرضے تاریخ میں پہلی بر 33 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2019 کے اختتام تک ملکی قرضے 33 ہزار 247 ارب روپے کی سطح پر آ گئے جو کہ گزشتہ سال اسی ماہ 25 ہزار ارب روپے کی سطح پر تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ملکی قرضوں میں آٹھ ہزار ارب روپے سے سے زائد کا اضافہ ہوا۔

موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے اب تک ملکی قرضوں نو ہزار ارب روپے تک کا اضافہ ہوچکا ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومتوں کو کئی مرتبہ قرضے لینے پر تنقید کا نشانہ بناچکے ہیں۔

پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا جس کے دوران عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے نہایت مشکل حالات میں اقتدار سنبھالا، گزشتہ ایک سال میں حکومت نے مشکل فیصلے کیے جن کے ثمرات برآمد ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

اجلاس میں معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ معاشی شعبے میں حکومتی اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اقتصادی اعشاریوں میں بہتری آ رہی ہے جس کو بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ چند ماہ میں حکومتی اقدامات کی بدولت  جہاں مالیاتی خسارے  پر قابو پایا گیا ہے وہاں بجٹ کے خسارے پر بھی موثر قابو پایا گیا۔وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت معیشت کی سمت درست ہو چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز