کرتار پور راہداری: افتتاحی تقریب میں من موہن سنگھ اور سدھوکی شرکت


کرتار پور/اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان آج کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا، سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ  نے مصافحہ کیا۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امرندر سنگھ، اداکار سنی دیول اورسیاسی و سماجی رہنما نوجوت سنگھ سدھو بھی پاکستان تشریف لائے ہیں۔ تقریب کے دعوت نامے سفارتکاروں اور دیگر اہم شخصیات کو بھیجوائے گئے ہیں۔

معززین کے لیے ساٹھ  فٹ لمبا اور چوبیس فٹ  چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا ہے جب کہ شرکا کے لیے پنڈال میں چھ ہزار کرسیاں، ساونڈ سسٹم اور اسکرینیں لگائی گئی ہیں۔ بارش کے پیش نظر پنڈال کو واٹر پروف بنایا گیا ہے۔

بابا گرونانک کے550 ویں جنم دن میں شرکت کےلیے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں نے سکھ  یاتریوں کو ویزے بھی جاری کر دیئے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مختلف ممالک سے پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جارے کیے گئے جب کہ پاکستان آنے والے سکھوں کی مجموعی تعداد 10 ہزار تک جا سکتی ہے۔

کرتار پور راہداری

ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی اور اس کا معاہدہ 24 اکتوبر 2019 کو ہوا۔

گوردوارہ دربار صاحب بین الاقوامی سرحد زیرو پوائنٹ سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فیصلے پر پاکستان میں واقع ہے۔

مذکورہ منصوبہ 823 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور تین سو تیس ایکڑ رقبے پر یاتریوں کے قیام کیلئے کمپلیکس بنایا گیا ہے۔ تیرہ اعشاریہ پانچ ایکڑ رقبے پر بارڈر ٹرمینل امیگریشن کی عمارت بنائی گئی ہے۔

منصوبے میں 6.8 کلومیٹر سڑکیں، دریائے راوی پر 800 میٹر پل اور دریائے راوی پر 2.8 کلومیٹر پر سیلاب سے بچاؤ کیلئے بند بنائے گئے ہیں۔

پاکستان دوسرے مرحلے میں بڈھی راوی کریک زیرو پوائنٹ پر 262 میٹر پل بھی تعمیر کریے گا۔ گوردوارہ کے گرد ایک لاکھ 52 ہزار مربع فٹ بارہ دری بھی تعمیر کی گئی۔

بارہ دری میں درشن ڈیوڑی، دیوان استھان، میوزیم، لائبریری اور 500 یاتریوں کیلئے 20 رہائشی احاطے شامل ہیں۔ بابا گرونانک سے منسوب آم کے درخت، کھوئی صاحب سمیت تمام اشیاء کو محفوظ کر دیا گیا۔

گرو دوارے میں 28 ہزار 190 مربع فٹ لنگر خانہ 2 ہزار لوگوں کو بیک وقت خدمات پیش کرے گا۔

کرتار پور کی اہمیت

پاکستان کے ضلع ناروال کی تحصیل شکر گڑھ میں کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔

یہاں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر ہے لیکن سکھ یاتریوں کو لاہور سے اس گرودوارے تک پہنچنے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور تقریباً تین گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے۔

معاونت
متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز