بابری مسجد کا فیصلہ دینے والے 5 جج کون ہیں!

اسلام آباد: بھارت کی عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوؤں کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ ججز کس پس منظر کے مالک ہیں، اب تک انہوں نے کیا خدمات سرانجام دیں اور مختلف قانونی نکات پر ان کی کیا رائے رہی ہے، اس سب پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

چیف جسٹس رنجن گوگئی

چیف جسٹس رنجن گوگئی آسام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اکتوبر 2018 میں انہیں ملک کے شمال مشرقی حصے سے اعلیٰ عدالت میں خدات سرانجام دینے کے لیے منتخب ہونے والی پہلی شخصیت بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

1978 میں بار کا حصہ بننے کے بعد انہوں گوہاٹی ہائی کورٹ میں پریکٹس کا آغاز کیا اور 28 فروری 2001 میں مستقل جج بن گئے۔

اپریل 2012 میں سپریم کورٹ کے جج کا عہدہ پانے سے قبل ان کا تبادلہ پنجاب اور ہریانہ کے ہائی کورٹس میں کیا گیا جہاں انہوں نے بطور چیف جسٹس خدمات سرانجام دیں۔

اپنے کیرئر کے دوران انہوں نے بہت سے تاریخی مقدمات کے فیصلے کیے جن میں نیشنل سٹیزن رجسٹر کا فیصلہ بھی شامل ہے۔

رنجن گوگئی 17 نومبر کو اپنی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو جائیں گے۔

جسٹس ایس اے بوبدے

رنجن گوگئی کے بعد جسٹس ایس اے بوبدے بھارتی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گے، انہوں نے 2000ء میں بطور ایڈیشنل جج ممبئی ہائی کورٹ میں خدمات سرانجام دینا شروع کیں۔

دو سال بعد انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کر دیا گیا۔

مہاراشٹرا میں پیدا ہونے والے ایس اے بوبدے کو اپریل 2013 میں سپریم کورٹ میں خدمات سرانجام دینے کے لیے تعینات کیا گیا۔

اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بابری مسجد کیس کو ’دنیا میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل مقدمہ‘ قرار دیا تھا۔

چیف جسٹس ڈی وائی چندراچود

جسٹس ڈی وائی چنداچود مئی 2016 میں بطور سپریم کورٹ کے جج تعینات ہوئے، قبل ازیں وہ ممبئی ہائی کورٹ اور الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے گریجویٹ جسٹس چندراچود ایسے فیصلوں کو مسترد کرنے میں شہرت رکھتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ متروک ہو چکے ہوتے ہیں۔

وہ بطور غیرمستقل پروفیسر امریکہ کی اوکلاہوما یونیورسٹی آف لاء میں پڑھاتے بھی ہیں۔

جسٹس اشوک بھوشن

جسٹس اشوک بھوشن نے 1979 میں الہ آباد ہائی کورٹ سے بطور ایڈووکیٹ اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔

اپریل 2001 میں وہ جج تعینات ہوئے اور جولائی 2014 میں ان کا تبادلہ کیرالہ ہائی کورٹ کر دیا گیا جہاں کچھ عرصے بعد انہوں نے بطور قائم مقام جسٹس کمان سنبھال لی۔

مارچ 2015 میں انہیں کیرالہ ہائی کورٹ کا باضابطہ چیف جسٹس تعینات کر دیا گیا اور 13 مئی 2016 کو وہ بھارتی عدالت عظمی کا حصہ بن گئے۔

جسٹس عبدالنذیر

جسٹس عبدالنذیر نے بطور ایڈووکیٹ فروری 1983 میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور 20 سال تک کرناٹکہ ہائی کورٹ میں خدمات سرانجام دیں۔

فروری 2003 میں انہیں کرناٹکہ ہائی کورٹ میں ہی بطور ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا۔

جسٹس عبدالنذیر کو 17 فروری 2017 میں سپریم کورٹ کے جج کا عہدہ دیا گیا۔

 

انہوں نے خبروں میں اس وقت گجہ بنائی جب اگست 2017 میں اس وقت کے چیف جسٹس جے ایس کھیکھر کے ہمراہ یہ فیصلہ دیا کہ بیک وقت تین طلاقیں اگرچہ خلاف شریعت ہیں تاہم عدالت ’نجی قوانین‘ میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

بابری مسجد کیس

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے طویل المدت تنازعہ اور تاریخی نوعیت کے بابری مسجد کیس کا فیصلہ 9 نومبر 2019 کو سنایا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ  نے کیس کی سماعت 16 اکتوبر کو مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

فیصلے کے مطابق 2.77  ایکڑ کا متنازع علاقہ حکومتی ٹرسٹ کے حوالے کیا جائے گا جو متنازع زمین پرمندر تعمیر کرے گی جب کہ مسلمانوں کو 5 ایکڑ متبادل جگہ فراہم کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز