صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

2020 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں اپنے سیاسی حریف کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے خارجہ پالیسی کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

ڈیموکریٹ اراکین نے ایک تصدیقی بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولڈیمیر زیلینسکی پر دباو ڈالا کہ وہ آنے والے امریکی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن، ان کے بیٹے اور یوکرین کی ایک گیس کمپنی کےخلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کریں۔

ڈیموکریٹ اراکین نے وائٹ ہاؤس سیکیورٹی کونسل کے ایک سینئر اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ کے ذریعے یوکرین کے عہداداروں پر دباو ڈالا اور کہا کہ وہ یوکرین کے صدر سے اس شرط پر ملیں گے اگر وہ جو بائیڈن، ان کے بیٹے اور یوکرین کی گیس کمپنی بُورِسما کے خلاف مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کریں۔

وائٹ ہاؤس سیکیورٹی کونسل کے سینئر اہلکار الیگزینڈر ونڈمیں کے مطابق یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ نے وائٹ ہاؤس میں 10 جولائی کو ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے عہدہداروں پر واضع کردیا تھا کہ  جو بائیڈن، ان کے بیٹے اور یوکرین کی گیس کمپنی کے خلاف تحقیقات یوکرین کے صدر کے لیے اوول آفس کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈیموریٹ ارکین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے حریف جو بائیڈن کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کروانے کے لیے یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کا غلط استعمال کیا جو عہدے کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیراتی فنڈز کا غیر قانونی استعمال: ڈونلڈ ٹرمپ پر 20 لاکھ ڈالر جرمانہ

صدر ٹرمپ کے سابق مشیر جان بولٹن نے بھی کہا ہے کہ یوکرین کے بارے میں ٹرمپ کے اقدامات سے متعلق وہ بھی بہت سی متعلقہ ملاقاتوں اور گفتگو کے بارے میں جانکاری رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے ڈیموکریٹ اراکین نے اس حوالے سے جان بولٹن کی مدد اور شہادت بھی مانگی ہے۔ جان بولٹن کا کہنا ہے کہ ان کی شہادت کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے اعتراضات پر جب تک عدالتی فیصلہ نہیں آتا وہ کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہونگے۔

اگلے ہفتے ہاؤس اراکین کی گانگریسی کمیٹی صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کھلی اور براہ راست سماعت شروع کرے گی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ مواخذے کی کارووائی سے فکر مند نہیں ہیں اور بہت جلد عوام کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز