اقوام متحدہ کشمیر میں مذہبی آزادی نہ ہونے کا نوٹس لے، پاکستان

ایل او سی کی خلاف ورزی پر پاکستان کا بھارت سے احتجاج

فوٹو: فائل

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی نہ ہونے کا نوٹس لے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں میلادالنبی ﷺ کے اجتماعات پر پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر بھارتی حکومت کی پابندیاں قابل مذمت ہیں۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں جلوس نکالنے سے روکا ہے اور سری نگر میں حضرت بل دربار جانے والے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی نہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ قابض فوج نے مقبوضہ وادی میں مساجد بھی سیل کر دی ہیں لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے جذبات کو دبا نہیں سکتا۔

پاکستان نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری مذہبی آزادی نہ ہونے کا نوٹس لے اور بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں فوری طور پر مواصلاتی نظام بحال کرے۔ بھارتی فوج کشمیری نوجوانوں کو اٹھانے کا سلسلہ بھی بند کرے۔

یہ بھی پڑھیں ’ملک کو کنگال کرنے والوں کو معاف کرنے کا اختیار نہیں‘

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ ہندوستان نے ثابت کیا ان کا ملک صرف ہندوؤں کے لیے ہے۔ پاکستان میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ کسی مندر کو گرا کر مسجد بنائی گئی ہو۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز