کسی دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے، مراد علی شاہ

ہشیار: ملبہ دکھا تو عمارت اور کچرا نظر آیا تو دکان سیل، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارا پہلے دن سے مؤقف ہے کہ ہم کسی دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

انہوں نے یہ بات سی پی این ای کے 26 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کہی جس کی صدارت عارف نظامی کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دھرنوں کے ذریعے حکومت گرانے میں یقین نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے 162 ارب روپے کراچی کو دینے کا وعدہ کیا تھا، ان میں سے 162 روپے بھی نہیں ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اگر کراچی میں ترقیاتی کام کرنا چاہتی ہے تو میں ہر طرح کی مدد کروں گا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میرے دل میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر کیلئے بہت عزت ہے، ہم نے ساتھ کام کیا ہے، ان کو غیر سنجیدگی سے فارغ کیا گیا جو ٹھیک نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف کے علاج پر وفاقی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صحت کی خرابی کی وجہ سے آج عدالت نہیں جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے این آر او کون مانگ رہا ہے؟ آپ کسی کو این آر او دے سکتے ہو؟

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں وزیراعظم کا استقبال نہیں کرتا، یہ بات غلط ہے، ان کا پورا پروگرام آتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کون کہاں استقبال کرے گا اور کون کہاں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب پہلی بار وزیراعظم آئے تھے تو میرا استقبال کرنے کیلئے پروگرام میں نام شامل تھا، میں نے خود ان کا استقبال کیا، اس کے بعد جب وہ آئے میری میٹنگس یا ملاقات نہیں لکھی گئی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب گورنر کہتا ہے وزیراعلیٰ جب چاہیں مل سکتے ہیں، اس طرح تو نہیں ہوتا بغیر پروگرام کے تو آپ مختیار کار سے بھی نہیں مل سکتے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز