سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنےکے بدلے حکومت کیا چاہتی ہے ؟

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے  کے معاملے پر وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت  شریف خاندان سے تحریری ضمانت کی خواہاں  ہے۔

ذرائع کا کہناہے کہ  پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بابر اعوان نے گزشتہ شب وزیر اعظم سے ملاقات کی۔ بابر اعوان نے رائے دی کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی غیر مشروط اجازت نہ دی جائے۔

ذرائع کے مطابق بابر اعوان نے وزیر اعظم کو نواز شریف سے ان کی جائیداد کی تحریری ضمانت لینے کا مشورہ دیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی میں بھی نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے تحریری ضمانت دینے کا معاملہ رکھا گیا۔

حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف کو بھیجنے سے قبل شریف خاندان سے کوئی تحریر لازمی  حاصل کی جائے۔

ادھر سابق وزیراعظم کانام ہٹانے کے لئے ای سی ایل سے متعلق وفاقی کابینہ کے ذیلی اجلاس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی ہے ۔

ذرائع کا کہناہے کہ نواز شریف کے معالج ڈاکٹرعدنان اور وکیل عطا تارڑ نے مریض کی صحت کے بارےمیں آگاہ کیا، انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ نواز شریف کو دل۔شوگر ،ہائپر ٹینشن جیسی بیماریاں ہیں۔

ڈاکٹر عدنان نے کمیٹی کو بتایا کہ نواز شریف کو جو بیماریاں ہیں ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ نواز شریف کو بیرون ملک کے ڈاکٹرز نے critical بتایا ہے۔نواز شریف کے صحت کے بارے میں سرکاری میڈیکل بورڈ نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا  ہے۔

سابق وزیراعظم کے معالج نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے کم وقت بیماریوں کے علاج کے لئے دیا یے۔ عدالت عالیہ کہہ چکی ہے کہ مریض کو مزید سہولیات حکومت دے سکتی ہے۔

کمیٹی کے وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ یہ اھم معاملہ  نیب کا موقف جانیں گے ۔ نیب عدالت عالیہ میں کہہ چکی ہے کہ انسانی اور طبی بنیادوں پر ضمانت دی جاسکتی ہے۔

نیب حکام نے کہا اس پر بطور ادارہ اپنا موقف دےچکےہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مشروط منظوری

اجلاس میں نواز شریف کے بیرون ملک جانے اور واپس آنے کی گارنٹی کون دیگا،پرتفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ پہلے بھی لوگ عدالتوں کو گارنٹی دے کر گئے لیکن واپس نہیں آئے۔۔رپورٹس کے مطابق مریض کی حالت خراب ہے۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ نیب کو ایک موقعہ دیتےہیں کہ وہ اپنا موقف واضع کرے۔۔اجلاس میں وقفے کے دوران نواز لیگ کے وفد نے پارٹی اعلی حکام سے رابطہ کیا۔

اجلاس میں سزایافتہ ملزم کو ملک سے باھر بھیجنے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزارت قانون کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر دیگر قیدیوں نے بھی ایسی درخواستیں دیں تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز