ای سی ایل کو حکومتیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

کراچی: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کو حکومتیں ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں ای سی ایل میں نام ڈالنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ میں ای سی ایل کے خلاف ہوں اور ہر حکومت اس کو بطور ہتھیار کے استعمال کرتی ہے۔ حکومت نے اگر کسی شخص کا نام بعد میں ای سی ایل سے نکالنا ہی ہوتا ہے تو اسے اس فہرست میں ڈالا ہی کیوں جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای سی ایل کے حوالے سے دوبارہ قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک میں ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہونا چاہیے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہاں تو کوئی بھی ادارہ کھڑا ہو کر حکومت کو کہہ دیتا ہے کہ فلاں شخص کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہے۔ اس معاملے پر بیرون ملک ہم پر مذاق اڑایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی میں مذہب کا مسئلہ نہیں ہے لیکن جو جماعتیں مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتی ہیں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آزادی مارچ کا فیصلہ حزب اختلاف کا مشترکہ تھا اور اس میں کوئی مذہبی معاملہ زیر بحث نہیں آیا تھا۔ احتجاج سب کا حق ہے اسے روکنا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کے آئندہ کا لائحہ عمل حزب اختلاف کی جماعتیں مل کر کریں گی۔ سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت سے خوش نہیں ہیں اور انہوں نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں نواز شریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ وزیر اعظم کیلئے پسندیدہ نہیں، فواد چوہدری

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آزادی مارچ میں ساری جماعتیں موجود ہیں اور یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ کسی ایک جماعت کا ہی احتجاج ہو رہا ہے اور ان کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آرڈیننس لانے شروع کر دیے گئے ہیں جو مسترد ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پارلیمنٹ میں بل لے کر آئے اور اس پر بحث کے بعد اسے پاس کرایا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز