مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کا دھرنا ختم کر دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی ہم یہاں سے روانہ ہوں گے پلان اے نے حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں اور اب ہم گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو کارکنان آزادی مارچ میں شریک نہیں ہو سکے وہ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور پلان بی پر عملدرآمد شروع کر دیں۔ ہم اس محاذ سے اگلے محاذ پر جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس حکومت کو نہ کوئی ٹیکس دیتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری اعتماد کر رہی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کچھ صوبوں میں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اب حکومت گھر جائے، وزیر اعظم کے استعفیٰ اور عام انتخابات سے کم کچھ قبول نہیں ہے۔ ہم شہروں میں نہیں بلکہ شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے جوانوں کو نہ روکے، احتجاج ہمارا حق ہے اور اگر ہمیں ایک جگہ سے روکا گیا تو ہم دوسری جگہ پر احتجاج کریں گے اب کوئی مائی کا لال ہمیں نہیں روک سکتا۔

جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے آزادی مارچ کے پلان بی پر عمل کرتے ہوئے کوئٹہ چمن شاہراہ رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کیلئے بند کر رکھی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت جمعیت علمائے اسلام (ف) کا اہم مشاورتی اجلاس  دھرنے کے مقام پر جاری ہے ۔ کچھ دیر میں مولانا فضل الرحمان اہم اعلان کرسکتے ہیں۔

کچھ دیر قبل آزادی مارچ کے مقام پر اعلان کئے گئے کہ تمام کارکن اور انصار الاسلام کے رضاکار کنٹینر کے قریب آجائیں مولانا فضل الرحمان اہم اعلان کرنے والے ہیں۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ اس سے قبل ایک  اجلاس مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر بھی  ہوا جس میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا عطا الرحمان اور اسلم غوری شریک  ہوئے۔

اس کے علاوہ مولانا عطاءالحق درویش، مولانا عبد الشکور، سید محمود شاہ اور عبد المجید ہزاروی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت دھرنے کے مقام پر جاری  اجلاس میں ’پلان بی‘ سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے، کہاں کہاں سڑکیں بند کی گئیں اجلاس میں جائزہ لیا جارہا ہے۔

ان کے مطابق خیبر پختون خوا میں کل سے پلان بی کو لاگو کرنے پر بھی مشاورت جاری ہے جبکہ آزادی مارچ اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے ’پلان بی‘ پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد وزارت داخلہ نے اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔

اجلاس میں آئی جی، چیف کمشنر، ڈی آئی جیز اور رینجرز حکام شریک حکام کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے پولیس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اگر کسی نے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی تو پھر قانون حرکت میں آئے گا۔

وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کی شاہراہیں کو اگر بند کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر قانون حرکت میں آئے گا۔

گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے پلان بی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر عمل آج (بدھ) کو شروع کردیا جائے گا۔

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پلان اے ہے اور یہ باقی رہے گا تاہم جب تک پلان بی پر عملدرآمد کا اعلان نہیں کیا جائے گا، سب یہیں رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پلان اے کے ہوتے ہوئے ہم پلان بی کی طرف جائیں گے اور جب اعلان ہو گا تو قافلے روانہ ہو جائیں گے۔ پلان بی میں اس حکومت کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا۔ ہم سیاسی لوگ ہیں ہمیں جھپٹنا بھی آتا ہے اور پلٹ کر حملہ کرنا بھی۔

جے یو آئی (ف) کا پلان بی

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا تھا کہ جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ آج سے پلان بی کے تحت پاکستان کی تمام اہم تجارتی شاہراہیں مکمل طور پر بند کردی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق آزادی مارچ کے لیے طے کردہ پلان اے کے تحت پشاور موڑ پر دھرنا جاری رہے گا۔ جے یو آئی (ف) کے اجلاس میں طے کیا گیا کہ پلان بی پرکامیاب عمل درآمد کے بعد پشاور موڑ پر جاری آزادی مارچ مؤخر کردیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پلان بی کے فیز ایک کے تحت ملک کی تمام اہم تجارتی شاہراہیں بند کی جائیں گی جب کہ پلان بی کے فیز ٹو کے تحت تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز بھی بند کردیے جائیں گے۔

اس ضمن میں تمام صوبائی عہدیداران کو پلان بی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نہ صرف ہدایات جاری کردی گئی ہیں بلکہ اہم ٹاسک بھی تفویض کردیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز