مقبوضہ کشمیر:100 دنوں میں عدالتی کام شدید متاثر

جموں: مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سابق ریاست کی عدالت عالیہ نے کئی اہم مقدمات میں فیصلے سنائے جن میں رومانہ جاوید قتل کیس، گداگری قانون کی منسوخی اور متعدد سیاسی رہنماوں کی نظر بندی سر فہرست ہیں۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق عدالت میں پانچ اگست سے روزانہ اوسطا 10 سے 12 فیصلے سنائے جاتے تھے اور تقریبا 20 سے 25 معاملات کی شنوائی ہوتی تھی، تاہم دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بندشوں سے وادی کشمیر میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، جبکہ وہیں عدالتوں کے روز مرہ کے کام کاج پر بھی برا اثر پڑا ۔

عدالت کے رجسٹرار دفتر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پانچ اگست کے بعد عدالت نے یومیہ صرف ایک سے دو فیصلے ہی سنائے جبکہ 9 سے 12 کیسز کی سماعت ہی ہو پائی۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، پابندیوں اور مواصلاتی نظام کی معطلی کے باعث کبھی مدعی تو کبھی مدعی علیہ عدالت میں حاضر نہ ہوسکے جس سے ججز کو کیس موخر کرنا پڑے۔اس مدت کے دوران کئی اہم فیصلے سنائے گئے۔

اس دوران دس برس قبل سرینگر میں ایک لڑکی کو دن دہاڑے قتل کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔سترہ سالہ رومانہ جاوید نامی ایک کمسن لڑکی کو تین مئی سنہ 2009 کو گاڑی سے جان بوجھ کر ٹکر مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس کیس میں 21 اکتوبر کو ملزم شعیب داریل کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ اس کے معاون ساتھی کو حادثے کے چھ برس بعد ‘نابالغ’ ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی عدالت نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں ‘جموں کشمیر پروینشن آف بیگری ایکٹ’ کو کالعدم قرار دیدیا۔جموں و کشمیر میں گداگری، بھیک مانگنے سے متعلق سنہ 1960کے ‘جموں کشمیر پروینشن آف بیگری رولز’ کو جموں و کشمیر کی چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس راجیش بندل نے کالعدم قرار دیا۔

مقبوضہ  وادی میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے علیحدہ آئین اور جھنڈے کو بھی کالعدم قرار دیا گیا، تاہم اس کا اطلاق 31 اکتوبر سے ہوا اور 30 اکتوبر کو جموں و کشمیرمیں رائج رنبیر پینل کوڈ کے تحت آخری فیصلہ سنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: مقبوضہ جموں و کشمیر میں اردو بطور سرکاری زبان ختم ہو رہی ہے

عدالت نے نومبر کے پہلے ہفتے میں مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی نظر بندی سے متعلق دائر کی گئی عوامی مفاد کی درخواست کو خارج کردیا۔

ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر مصطفی کمال، عوامی نیشنل کانفرنس کی بیگم خالدہ شاہ اور مظفر شاہ کو پولیس کے تحریری بیان کے مطابق ‘آزاد’ قرار دیکر کہا تھا کہ مذکورہ سیاسی رہنماوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔

مظفر شاہ نے پولیس بیان کو ‘جھوٹ’ قرار دیکر کہا تھا کہ انہیں نظر بند رکھا گیا ہے اور انہوں نے دعوی کیا کہ ان کی نقل و حرکت اور سیاسی سرگرمیوں پر پوری طرح سے پابندی عائد کی گئی ہے ۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز