رابی پیرزادہ کے بعد حمزہ علی عباسی نے بھی شوبز چھوڑ دیا

لاہور: گلوکارہ رابی پیرزادہ کے بعد معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے بھی شوبز کی رنگارنگ دنیا کو خیر آباد کہ دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنی ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ زندگی بہت جلد ختم ہونے والی ہے، موت ایک اٹل حقیقت ہے جس کے بارے میں نہ ہم سوچتے ہیں اور نہ ہی بات کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ موت کے بعد ایک بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے جب ہم اپنے اللہ کے آگے روزِ قیامت کھڑے ہوں گے۔

23 منٹ طویل ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ جب میں 14،15 سال کا تھا میرے ذہن میں بہت سے سوال تھے کہ یہ دنیا کیسی وجود میں آئی اور زندگی کا ایک عرصہ ملحد بن کر گزار ڈالا مگر اللہ نے مجھے سیدھا راستہ دیکھا دیا۔


حمزہ  نے اپنی زندگی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت تھا جب میرے لئے بڑے بڑے ایوارڈ بہت معنی رکھتے تھے مگر میری زندگی کا ہر مقصد موت کا سوچ کر ختم ہوتے ہوئے نظر آئے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صدقہ خیرات اور لوگوں کی مدد کرنے میں اپنی زندگی میں صرف کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اداکاری حرام نہیں ہے مگر میں اس لئے چھوڑ رہا ہوں کہ بدکاری کے بغیر آج کل ڈرامہ یا فلم نہیں بنتی۔

انہوں نے کہا کہ میں اب زندگی اللہ کے لئے وقف کرنا چاہتا ہوں اور لوگوں کو احساس دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی زندگی کو اس سوچ کے ساتھ گزاریں کے ایک دن پروردگار کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔

یاد رہے گزشتہ روز نازیبا ویڈیو سامنے آنے کے بعد معروف گلوکارہ، ماڈل اور اداکارہ رابی پیرزادہ کا ندامت سے بھرا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا۔

اپنے ویڈیو بیان جس کے دوران وہ کئی مرتبہ اشک بار ہوئیں، میں ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے دن کی خاموشی میں جواب ڈھونڈ رہی تھی اپنے اندر سے اور کبھی اللہ سے شکوہ کررہی تھی۔

رابی پیرزادہ کا کہنا تھا کہ پھر کسی نے مجھے کہا کہ کسی کے اوپر جب ایسا وقت آتا ہے تو اس کی دو ہی وجوہات ہوتی ہیں یا تو اللہ سزا دیتا ہے یا آزمائش۔ میں نے پوچھا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ مجھے سزا دی گئی ہے یا میری آزمائش ہے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ وقت گزر جانے کے بعد بھی میں گناہوں کے دلدل میں دھنس گئی اور اگر میں اللہ کے راستے پر چل پڑی تو یہ میری آزمائش تھی۔

معروف گلوکارہ کا کہنا تھا کہ جو کچھ میں نے بنایا وہ تنہائی میں بنایا، وہ میرے اور میرے اللہ کے درمیان کی بات ہے میں اللہ کی مجرم ہوں، وہ دلوں کے حال جانتا ہے، وہ میرے آنسوؤں کو سمجھتا ہے۔

تقریباً 9 منٹ طویل ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ جب میرا ڈیٹا لیک ہوا تو پورا دنیا میں وائرل ہوگیا تو بہت سارے لوگ میرے پاس کام لے کر آنا شروع ہوگئے۔

’بہت ساری خواتین نے مجھے سپورٹ کی پیشکش کی کہ آپ کے لیے احتجاج کریں گے کوئی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکے گا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان خواتین میں وہ بھی شامل تھیں جنہوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ اور ’می ٹو‘ مہم پاکستان میں چلائی تھیں۔

’اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھادیا۔ ایک میری چاہت تھی شوبز میں رہنا اور ایک اللہ کی چاہت تھی اپنی راہ پر لگانا۔‘

انہوں نے ناقدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہت سارے مسلمانوں نے میرے خلاف بہت باتیں کیں۔ کسی نے کہا سستی شہرت کے لیے کیا ہوگیا، کچھ لوگوں نے کہا مودی کے خلاف بولنے کی سزا دی، کسی نے کہا عمران خان کے خلاف نظم پڑھنے پر ایسا کیا گیا۔

انہوں نے اپنی خودکشی کی خبریں پھلانے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کہ ایسا کرنے والے تمام افراد مجرم ہیں۔

معروف اداکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی ویڈیوز شیئر کرنے والے دو افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پکڑلیا۔

’مجھے ایسے لوگ بھی ملے جنہوں نے بغیر کسی مطلب اور لالچ کے میری مدد کی، اتنی مدد کی کہ مجھے لگتا تھا جیسے اللہ نے مجھے فرشتے بھیجے ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ نے مجھے نئی زندگی دی ہے اور آج کے بعد میں اپنی زندگی اللہ کو وقف کرتی ہوں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز