’نواز شریف واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہوں گے‘

اینڈیمنٹی بانڈ کی شرط کو معطل کیا گیا مسترد نہیں، شہزاد اکبر

اسلام آباد: معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو ہی برقرار رکھا ہے، اینڈیمنٹی بانڈ کی شرط کو معطل کیا گیا مسترد نہیں۔

اسلام آباد میں اٹارنی جنرل انور منصور کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب اگر سابق وزیراعظم نواز شریف واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہوں گے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے سابق وزیراعظم کے بیرون ملک علاج کی بات کی اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک بار باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق سزا یافتہ مجرم کا نام (ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نہیں نکالا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے میں چار نکات تھے، فیصلہ کیا گیا کہ اجازت مخصوص مدت کے لیے ہوگی، تیسرا فیصلہ یہ تھا کہ وہ مدت پوری ہونے پر واپس آئیں گے ۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت پر لازم تھا کہ ان کی واپسی یقینی بنائے، ماضی میں بھی یہ وعدہ خلافی کرچکے ہیں جبکہ نواز شریف کے سمدھی اور دو بیٹے مفرور ہیں، ان کی وعدہ خلافیاں ہمارے سامنے موجود تھیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے کابینہ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اینڈیمنٹی بانڈ کی جگہ بیان حلفی لیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے شہباز شریف اور نواز شریف سے تحریری یقین دہانی لی ہے۔

’دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو گروی رکھوا دیا‘

اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دی، دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو گروی رکھوا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی، اب پتہ چل جائے گا کہ یہ صادق اور امین ہیں یا نہیں۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ ان کا ٹریک ریکارڈ درست نہیں جس کی وجہ سے عدالت نے بھی جانچ پڑتال کی۔

انہوں نے کہا کہ ضمانت میں ان کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں تھی، عدالت نے مان لیا کہ کابینہ کا فیصلہ غلط نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنوری کے مہینے میں یہ درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہوگی اور چار ہفتوں بعد انہیں توسیع کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو عدالت کے سامنے گروی رکھ دیا ہے، اب نہیں آتے تو توہین عدالت کا کیس چلے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز