ملکی برآمدات میں حجم کے لحاظ سے اضافہ ہورہاہے ، گورنر اسٹیٹ بنک

ملک درست سمت میں آ گیا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

فوٹو: فائل

کراچی: مرکزی بنک کے گور نر رضا باقر نے کہاہے کہ ملکی برآمدات میں بہتری آرہی ہے ۔اس حوالےسے حجم کے لحاظ سے اضافہ ہورہا ہے ۔  ایکس چینج ریٹ کو مستحکم رکھ کر درآمد پر سبسڈی اور برآمدات پر ٹیکس عائد کیا تھا  ،پاکستان میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا ہے  ،ابھی مختلف شعبوں میں اصلاحات آنا ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کراچی چیمبر پہنچے ہیں جہاں انہوں نے صنعتکاروں اورتاجروں سے ملاقات کی ہے ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹس سے نمبر لیا گیا ہے،فیصل آباد میں ٹیکسٹائل میں بہتری آرہی ہے ،جو سیکٹرز امپورٹ سے مثاثر تھے وہ بھی بہتر ہورہے ہیں۔رضاباقر نے کہا کہ ملک میں جوتا سازی کی صنعت اب فروغ پار ہی ہے  ۔

ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ  ایکس چینج ریٹ کو مستحکم رکھ کر درآمد پر سبسڈی اور برآمدات پر ٹیکس عائد کیا تھا  ،پاکستان میں اصلاحات کا عمل شروع ہوا ہے  ،ابھی مختلف شعبوں میں اصلاحات آنا ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بنک نے کہا کہ  ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ بیس کرنے پر بہت خوف تھا،کاروباری برادری اصلاحات کے عمل کو اعتماد دیں۔ ملک میں غیر ملکی سرمایہ آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس غیر قرضہ جات زرمبادلہ میں اضافہ ہورہا ہے،کاروبار میں آسانی کے ایشوز کو آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں۔

چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ ہم گورنراسٹیٹ بینک کو چیمبر آمدپرخوش آمدیدکہتے ہیں ۔
22سال سے بزنس مین گروپ چیمبر میں فتح حاصل کررہاہے۔

سراج قاسم تیلی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے تقریباً اپنے70فیصد اہداف حاصل کئے ہیں ،ہمیں چیزوں کو الگ الگ کرنا تھا۔ ٹیکسیشنز،اکانومی پالیسی، انٹریسٹ ریٹ،گروتھ ریٹ اور مہنگائی کوروکناہے ۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سب کچھ مکس کردیا جس سے مسائل بڑھ گئے۔ موجودہ ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کے مطابق ہے۔انٹریسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے جسے کم کیاجانا چاہیئے، انٹریسٹ ریٹ سنگل ڈیجیٹ میں ہوناچاہیئے ۔

سراج قاسم تیلی نے کہا گورنر اسٹیٹ بنک کو مخاطب کرکے کہا کہ وعدہ کرکے جائیں کہ22 تاریخ کی مانیٹرنگ پالیسی میں انٹریسٹ کم ہوگا۔

سراج قاسم تلی نے کہا کہ پوری دنیا میں شرح سود سنگ ڈیجٹ میں ہے ، یہ تجویز ہے کہ پاکستان میں بھی شرح سود سنگل ڈجیٹ ہونا چایئے ۔ 22 نومبر میں اب شرح سود کے بڑھنے کی رفتار میں اب ریورس فئیر لگنا چائیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسٹیٹ بینک مے اپنے اہداف 75 فیصد بھی حاصل کرلئے ہیں تو اب شرح سود کم ہونا چاہیے ۔

کراچی چیمبر کے  صدر آغا شہاب نے کہا کہ گورنر اسٹیک بینک کو ملک کے سب سے بڑے چیمبر میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مرکزی بینکوں کے پاس معاشی بحال کے لئے اہم فیصلے کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔

آغا شہاب نے کہا کہ  اگر لیکوڈیٹی کے مسائل ہوں تو اسٹیٹ بیکس اس کمی کو پورا کرنے کے لیے مداخلت کرتا ہے۔ پاکستان میں پالیسیاں تو بنا دی جاتی ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے برسوں کے فصیلوں پر پاکستان میں صنعتوں کو شدید لیکودیٹی کے مسائل کا سامنا رہا۔ اسٹیٹ بینک ہمیشہ مالی مسائل ہر ریلوے ، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کو سپورٹ فراہم کرتی رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے: مرکزی بنک نے شعبہ بنکاری کا ششماہی کارکردگی جائزہ برائے 2019 جاری کردیا

آغا شہاب نے کہا کہ مالی مسائل کی وجہ سے تمام ادارے کو مشکلات رہیں ۔ مالی مسائل ہر پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ۔ میرا یہ سوال ہے مالی مسائل کے لیے اسٹیٹ بینک مے کیا اقدامات کئے گئے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز