’حکومت لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چینلج نہیں کرے گی‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے متعلق فیصلے پر وزیراعظم کی تنقید کے باوجود حکومت عدالت میں اس فیصلے کو چینلج نہیں کرے گی۔

ہم نیوز کے پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ یہ موقع نہیں تھا کہ وزیراعظم سیاسی تقریر کرتے۔ انہیں سی پیک سے متعلق تحفظات پر بات کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے اس سے بچنے کے لیے سیاسی باتیں کیں۔

سینیئرصحافی افتخار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت فیصلہ چینلج نہیں کرے گی کیونکہ تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔ حکومت کی توجہ کام سے زیادہ اپوزیشن پر ہے۔

تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ عمران خان کی وزیراعظم بننے سے پہلے یہی زبان تھی اور آج بھی یہی زبان ہے۔ عوام دعا کررہے ہیں کہ وزیراعظم کینیٹر سے اتر کر ان کے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجد شعیب نے کہا کہ وزیراعظم کو ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہیے جس سے سیاست میں تلخی بڑھے۔ اپوزیشن کے ساتھ بحث میں الجھنے سے کام سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فیصلے کو چینلج کرنا چاہیے تاکہ مستقبل کے لیے واضح راستہ سامنے آجائے۔

تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو کسی نے نہیں بتایا کہ آپ کا کام مسائل کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ ان کو حل کرنا ہے۔ پولیس کا نظام عدالتوں نے ٹھیک نہیں کرنا یہ حکومت کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پالیسی بنائیں عدلیہ اس پر عمل کرے گی۔

چوہدری برداران کی سیاست سے متعلق سوال کے جواب میں افتخار احمد کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران نے نوازشریف کی صحت اور مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے متعلق بیانات کی وضاحت ہے لیکن اس میں بھی کہا ہے کہ جو کہا ہے اس پر قائم ہیں۔ ہماری سیاست میں یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی بھی خود کشی کا راستہ اختیار نہیں کرتے۔

ناصربیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ چوہدری بہت اچھا کھیل کھیل رہے ہیں، ان کی سیاست کے لیے حالات بھی سازگار ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آگے چل کر چوہدری وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے اپنا نام بھی سامنے لے آئیں۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ چوہدری برادران کسی سیاسی نظریے سے منسلک نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی عوام معاملے پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی ساری کوشش کرسی کے لیے ہوتی ہے اور وہ اب بھی یہی کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو برطانیہ لے جانے والی ایئر ایمبولینس کل صبح اڑان بھرے گی

ضیغم خان نے کہا کہ چوہدری برادران کو مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے حکومت نے بلایا لیکن انہوں نے اپنی سیاست شروع کردی، انہوں نے عمران خان کو اچھے مشورے بھی دئیے۔

امجد شعیب نے کہا کہ ان کی سیاست کا بنیادی نقطہ ہی یہی ہے کہ ان کی اہمیت برقرار رہے اور نظام ایسے چلتا رہے کہ ان کا کوئی نقصان نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وضاحتیں اس لیے دے رہے ہیں کہ انہیں خدشہ ہے اگر عمران خان نے اپنی سیاسی حمایت کھینچ لی تو ان کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز