کابینہ کا نواز شریف سے متعلق عدالتی فیصلے کو فوری چیلنج نہ کرنے پر اتفاق

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہو گا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو فوری طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ حکومت عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی، سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جبکہ وزیر اعظم نے کور کمیٹی کے فیصلوں پر کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا۔

کابینہ نے گزشتہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی جبکہ سی پیک کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کو قومی ٹیرف پالیسی پر بریفنگ دی گئی۔

وزارتوں اور محکموں میں سی ای او اور ایم ڈی کی خالی آسامیوں پر رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارت انڈسٹریز میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی منظوری ایجنڈے کا حصہ تھی۔

پاکستان انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن میں سی ای او کی تعیناتی کی منظوری دی گئی جبکہ وفاقی انشورنس محتسب کی تعیناتی بھی ایجنڈے تھی۔

ہفتے کے روز لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کو غیر مشروط طور پر چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دیتے ہوئے نام ای سی ایل سے نکال دیا تھا۔

بعدازاں حکومتی نمائندوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کو ہی برقرار رکھا ہے، اینڈیمنٹی بانڈ کی شرط کو معطل کیا گیا مسترد نہیں۔

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اب اگر سابق وزیراعظم نواز شریف واپس نہ آئے تو عدالت کے مجرم ہوں گے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو جانے کی اجازت دی، دونوں بھائیوں نے اپنے آپ کو گروی رکھوا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی، اب پتہ چل جائے گا کہ یہ صادق اور امین ہیں یا نہیں۔

عدالتی ریلیف کے بعد آج سابق وزیراعظم ایئر ایمبولنس کے ذریعے لندن روانہ ہوگئے۔

امیگریشن ذرائع کے مطابق نواز شریف کو صرف ایک بار بیرون ملک جانے کی اجازت ملی ہے اور وہ اس دفعہ صرف عدالت کے احکامات دکھا کر ملک سے باہر جا سکیں گے تاہم ان کا نام ای سی ایل میں رہے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز