پاکستان میں سائبر کرائم بڑھ گئے

پاکستان میں سائبر کرائم بڑھ گئے

فائل فوٹو

لاہور: سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور پیغام رسانی کی ایپ واٹس ایپ کے ذریعے بلیک میلنگ اور اکاؤنٹ ہیک ہونے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) کے سائبرکرائم ونگ کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس کی نسبت رواں سال بلیک میلنگ کے واقعات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سائبر کرائم ونگ میں فیس بک پر بلیک میلنگ اور اکاونٹ ہیک ہونے کی 35 سو 60 شکایات موصول ہوئیں جب کہ گزشتہ برس ان کی تعداد دو ہزار دو سو چھتیس تھی۔

انچارج سائبر کرائم ونگ سرفراز چودھری کے مطابق رواں برس واٹس ایپ پر بلیک میلنگ کی 19 سو 64 اور ویب سائٹس ہیک کرنے سے متعلق سات سو اکیس شکایات موصول ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں سائبر کرائمز پر قابو پانے کے لیے ایک بل منظور کیا گیا ہے جس کے اہم نکات درجہ ذیل ہیں۔

1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

7) جرم اورنفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5 سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی کیشن وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

20)سپیمنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز