“حکومت خود اپنے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا رہی ہے”

اسلام آباد: تجزیہ کار اویس توحید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اور ان کے وزرا خود اپنے راستے میں بارودی سرنگیں بچھا رہے ہیں، یہ لوگ غیرضروری بیانات دیتے ہیں جن کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی۔

ہم نیوز کے مارننگ شو “صبح سے آگے” میں میزبان شفا یوسفزئی سے بات کرتے ہوئے اویس توحید کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس وقت اقتدار کا کڑوا مزہ چکھ رہی ہے۔ عمران خان کی مشکلات میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کی ذمہ دار حکومت خود ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انہیں بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ خود حکومت نے کیا، اس حوالے سے غیر ضروری بیانات کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ بیان غیرضروری تھا، انہیں اس بات کا خیال کرنا چاہیئے کہ ان کی باتوں کا مطلب کہاں سے کہاں تک جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اویس توحید نے بتایا کہ سیاسی منظر نامے کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر نواز شریف کی صحت نے اجازت دی تو وہ علاج کے بعد وطن واپس ضرور آئیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ بات طے ہے کہ ہمارے معاشرے میں امیر اور غریب میں فرق کیا جاتا ہے جسے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، اگر وہ بیرون ملک جا کر علاج کرانے کی استطاعت رکھتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

غیرملکی فنڈنگ کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے باعث وزیراعظم کی مشکالات میں مزید اضافہ ہو گا۔

پروگرام میں شریک پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی نے کہا کہ وہ عموماً ٹاک شوز میں کم جایا کرتے تھے لیکن اب اس جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنی جماعت کا موقف پیش کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا موقف بہت واضح ہے لیکن اسے اچھے طریقے سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنی نجی زندگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماررے گھر کا ماحول بہت جمہوری ہے لہذا سیاست میں آنے کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا لیکن حالات کچھ ایسے بن گئے کہ اس میدان میں قدم رکھنا پڑا۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت صرف اور صرف طبی بنیادوں پر دی گئی۔ سیاسی تجزیہ یہ کہتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی جماعت بچانی ہے تو وطن واپس آنا ہو گا۔

وزرا کی تبدیلی سے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ عوام وزیراعظم کو منتخب کرتی ہے جو پھر کابینہ کے ارکان کو منتخب کرتے ہیں لہذا وزیراعظم کو کبھی بھی کابینہ میں تبدیلی کی ضرورت ہو تو وہ ایکشن لے سکتے ہیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز