بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا، مفتاح اسماعیل

کراچی: وزیراعظم کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اس وقت معاشی نمو گزشتہ دس سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔

پیر کو سامنے آنے والے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے کے لیے شرح نمو کو آٹھ سے دس فیصد تک لے جانے کی ضرورت ہے.

ورلڈ اسلامک فنانس فورم 2018 سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئندہ سال بجٹ میں آمدن پر نہیں شرح نمو بڑھانے پر توجہ ہوگی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر ہماری نظر ہے اس کا انتظام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معاشی نمو کے ساتھ مہنگائی کی شرح پانچ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ معاشی ترقی بڑھانے کے لیے توانائی، امن و امان اور کاروبار کو سہل بنانا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ہم نے 12 ہزار میگا واٹ کے منصوبے بنائے ہیں۔ ہماری فوج نے ملک میں امن کے لیے بہت کام کیا ہے۔

وزیراعظم کے مالیاتی مشیر نے ملکی ٹیکس نظام کی خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کئی ٹیکس ایسے ہیں جن سے حکومت کو آمدن نہیں ہورہی۔

انہوں نے خوشخبری سنائی کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگارہے ہیں۔

اپنے اعلان سے قبل متنازع ہو جانے والی ایمنسٹی اسکیم کے متعلق مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا اسکیم رواں ماہ آجائے گی۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جیل احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامک انڈسٹری فروغ پارہی ہے۔ اسلامک انڈسٹری کو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

معروف مذہبی اسکالر شیخ تقی عثمان نے اسلامک بینکنگ کے فروغ کے لیے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ میں اسلامک فنانس کا ڈویژن ہونا چاہیے جو اسلامک بینکنگ کو درپیش مسائل پر کام کرے۔

انہوں ںے کہا کہ اسلامک بینکنگ کو فعال کرنے کے لیے کئی برس قبل بنائی گئی کمیٹی کو فعال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز