انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کیلئے منصوبہ تیار

انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کیلئے منصوبہ تیار

فائل فوٹو

ورلڈ وائڈ ویب(ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو) کے موجد برطانوی انجنئیر ٹِم بیرنرز لی نے حکومتوں، کمپنیوں اور افراد کے ہاتھوں انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرلیا ہے۔

انہوں نے 1989 میں دنیا کو ورلڈ وائڈ ویب سے متعارف کروایا تھا اور اب 30 سال ایک نیا منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد انٹرنیٹ پر غلط معلومات، معلومات کی نگرانی اور سینسرشپ کو روکنا بتایا گیا ہے۔

بیرنرز لی کا بیان ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو فاؤنڈیشن پر جاری کیا گیا جس میں کہا ہے کہ’اگر ہم اب یکجا ہوکر عمل نہیں کریں گے تو ویب کا غلط استعمال کرنے والوں کو روکنا مشکل ہو جائے گا اور اگر ہم منقسم اور کمزور رہے تو ہمارے بھٹکنے کا خدشہ ہے‘۔

مذکورہ منصوبے کو دنیا کی 150 تنظیموں اور کمپنیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں گوگل، مائیکروسافٹ اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

رپورٹرز ودآوٹ بارڈرز جیسے گروپ بھی اس نئے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جرمنی اور فرانس کی حکومت نے بھی اس منصوبے کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بیرنرز لی کا ایک تبصرہ شائع کیا ہے، جس میں ان کا کہنا تھا’ویب کو ان سب لوگوں کی بنیادی مداخلت کی ضرورت ہے، جو اس کے مستقبل پر طاقت رکھتے ہیں‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم آخری حدود کو چُھو رہے ہیں، ویب اچھی صلاحیت کی حامل ایک عالمی طاقت کے طور پر قائم رہی گی یا پھر اس کا غلط استعمال کیا جائے گا، اس کا انحصار ہمارے آج کے ردعمل پر ہے‘ ۔

بیرنرز لی نے اس معاہدے کا بھی دفاع کیا ہے، جو وہ گوگل اور فیس بک کے ساتھ مل کر کرنا چاہتے ہیں۔

انٹر نیٹ کے موجد  کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے ساتھ مل کر چلنا بہت ضروری ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ حکومتوں اور کمپنیوں کو برابر کے اختیارات ملنے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان طاقتوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے، عوام کی طرف سے ان کے ڈیجیٹل حقوق کے مطالبے کا احترام ضروری ہے اور آن لائن صحت مند گفتگو کو فروغ ملنا چاہیے۔

خیال رہے کہ گوگل اور فیس بک کو حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

مذکورہ کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ صارفین کی معلومات چوری کر کے اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔  گزشتہ ہفتے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان دونوں کمپنیوں کے ‘نگرانی پر مبنی بزنس ماڈل‘ کو انسانی حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز