عوامی حلقوں میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا

سیاسی حریف اور ڈیموکریٹ رہنما جو بائیڈن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کا مبینہ طور پر غلط استعمال کرنے پر عوامی حلقوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی خصوصی کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موخذے کے حوالے سے براہ راست سماعتیں مکمل کرلی ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان میں اکثریت رکھنے والی جماعت ڈیموریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 2020 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں مدمقابل سیاسی حریف جو بائیڈن، ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کروانے کے لیے یوکرین کے صدر ولڈیمیر زیلینسکی  پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکی خارجہ پالیسی کا غلط استعمال کیا جو عہدے کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔

رائٹرز کے حالیہ سروے کے مطابق 47 فیصد بالغ امریکی شہریوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موخذے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ 40 فیصد بالغ امریکیوں نے اس کی مخالفت کر دی ہے۔

پچھلے کئی ہفتوں میں کئے گئے سروے کے مطابق امریکیوں کی ایک بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ چاہتا ہے اور ان کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔

مواخذے کی کارروائی شروع  ہونے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد تین فیصد پوائنٹس پر تھا جو اب بڑھ کر ساتھ فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے جو کہ امریکی بالغ آبادی کا 47 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مواخذے کا سامنا کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دفاع میں مواد سامنے لانے کا اعلان کردیا

صدر ڈونلڈ ٹرمپ الزام ہے کہ  25 جولائی کو انہوں نے یوکرین کے صدر ولڈیمیر زیلینسکی پر دباو ڈالا کہ وہ 2002 میں ہونے والے امریکی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن، ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن اور یوکرین کی ایک گیس کمپنی کےخلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائیں۔

یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس سیکیورٹی کونسل کے سینئر اہلکار الیگزینڈر ونڈ مین نے موخذے کی کمیٹی کے سامنے بیان دیا تھا کہ یورپی یونین میں امریکی سفیر گورڈن سونڈ لینڈ نے وائٹ ہاؤس میں 10 جولائی کو ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے عہدہ داروں پر واضع کردیا تھا کہ  جو بائیڈن، ان کے بیٹے اور یوکرین کی گیس کمپنی کے خلاف تحقیقات ہی یوکرین کے صدر کے لیے اوول آفس کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

یوکرین پر دباؤ ڈالنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی یوکرین کو سیکیورٹی کے مد میں دینے والے 391 ملین ڈالرز روک دیے تھے جس پر امریکی سیکیورٹی حکام نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز