آرمی چیف کی مدت ملازمت 6 ماہ بعد ختم نہیں ہو گی، فروغ نسیم

اسلام آباد: سابق وزیر قاتون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ پاک کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت چھ ماہ بعد ختم نہیں ہو گی، عدالت نے قانون سازی کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی نئی مدت ملازمت آج رات بارہ بجے ہو گی، جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت، قانون اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ملک دشمن افواہیں پھیلا کر ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، قانون سازی ہم ایک ماہ میں بھی کر سکتے ہیں۔

فروغ نسیم نے کہا کہ جنرل کیانی کی توسیع کے خلاف بھی ایک درخوست آئی تھی، وہ درخوست واپس ہوگئ تھی ۔ وکیل اور جج کے درمیان مکالموں سے نیتجہ اخذ نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جج منصور علی شاہ نے میری تعریف کی، یہ بریکنگ نیوز کیوں نہیں چلائی گئی۔ جنرل باجوہ نے کھچائی کی جیسی من گھڑت خبریں چلائیں گئیں۔وکیلوں کو وکلاء گردی کہتے ہیں تو فیک نیوز کو کیا گردی کہیں گے۔ ہم ایسے چینلز کے خلاف کاروائی کا سوچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہماری رہنمائی کی ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کہ فلاح کے لیے دیا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم بنانے والوں اور اسکے بعد آنے والوں نے اس کو صحیح کیوں نہیں کیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، اٹارنی جنرل

اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔

اسلام آباد میں سابق وزیر قانون فروغ نسیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے سے آئندہ بھی رہنمائی ملے گی۔

انوار منصور نے کہا کہ درخواست پر کارروائی شروع ہوئی اور سٹے آرڈر دیا گیا ہے۔ سٹے یہ دیا گیا کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ  آج تک کسہ کورٹ نے ایسا فیصلہ نہیں دیا تھا۔ آرمی ایکٹ تقسیم ہند سے پہلے کا ہے۔ یہ ایکٹ کبھی چیلینج ہی نہیں ہوا تھا۔ کبھی کسی کو یہ احساس ہی نہیں ہوا کے اس نے غلط کام کیا۔ انہوں نے کہا ماضی میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی توسیع دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کردیا

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیا نوٹیفیکیشن بھی پہلے کی طرح ہی ڈرافٹ کیا گیا۔ قانون کے اندر چیف آف آرمی سٹاف کہ تعیناتی سے متعلق کوئی بات نہیں تھی۔ کورٹ کی بحث کے نتیجے میں نئی چیزیں سامنا آگئیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 چیف آف جنرل سٹاف کہ تعیناتی سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 255 اس کے رینک سے متعلق ہے۔ ماضی میں ہونے والی تعیناتیوں میں آرٹیکل 255 شامل رہا ہے۔ عدالت نے جو تبدیلیاں کرائیں اس میں کہا گیا 243 کہ بات نہ کہ جائے۔

انور منصور نے کہا کہ عدالت نے کہا کے قانون بنائیں جو چیف آف آرمی سٹاف کی تعینات سے متعلق ہو۔ یہ حکومت کی ایڈورسٹی نہیں ہے۔ پہلے کبھی ایسا ہی قانون نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹی وی شوز میں اس معاملے میں بڑے عجیب طریقے سے پیش کیا گیا۔ اس معاملے کو بیرون ممالک میں پاکستان کے خلاف لیا گیا

    شہزاد اکبر مشیر احتساب

مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ بڑا حساس تھا اور سپریم کورٹ نے اسی طرح ہی تاریخی فیصلہ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلے پر اسی طرح بات کریں گے جس طرح عدالت عظمی نے کی ہے۔ آرمی کا مورال انتہائی ضروری یے۔ سوشل میڈیا اور بیرونی طاقتوں نے اس مسئلے کو اور رنگ دینے کی کوشش کی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز