چیف جسٹس اطہر من اللہ اڈیالہ جیل کا دورہ کریں گے

چیف جسٹس اطہر من اللہ اڈالیہ جیل کا دورہ کریں گے

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آئندہ جمعہ کو اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی سربراہی میں کمیشن قائم کرتے ہوئے سات دن کے اندر پہلی میٹنگ کرنے کی ہدایت بھی کی۔

عدالت نے وزارت صحت کو چاروں صوبوں میں قیدیوں کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈز بھی قائم کرنے کا حکمر دیا ہے۔

اڈیالہ جیل کے بیمار قیدی خادم حسین کی درخواست پر سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ انسانی حقوق کی جتنی بھی روایات موجود ہیں یہ صورتحال ان تمام کی خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جیلوں میں موجود قیدیوں کو کیوں نا کہہ دیا جائے کہ وہ حکومت کے خلاف مقدمات دائر کریں۔

ہائی کورٹ کے سربراہ نے جوائنٹ سیکرٹری صحت سے مخاطب ہو کر کہا کہ قیدی حکومت کی قید میں ہیں انکی ذمہ داری حکومت پر ہے، جیلوں میں کتنی بدعنوانی ہے آپ کو اسکا اندازہ ہے۔ پندرہ سو والی جگہ پر چار ہزار لوگوں کی موجودگی تشویش ناک صورتحال ہے۔

اطہرمن اللہ نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے کوریڈور میں بھی لوگ سوتے ہیں اور اس کے وارڈز میں سے بھی نالے گزرتے ہیں۔

انہوں نے نام لیے بغیر نواز شریف کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ روز قبل ایک قیدی کے لیے میڈیکل بورڈ کس نے بنایا تھا۔ خاص کے لیے تو میڈیکل بورڈ بن سکتا ہے عام قیدی کے لیے کیوں نہیں بناتے؟

یہ بھی پڑھیں : نواز شریف کی مشروط ضمانت منظور

چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر لگ رہا ہے وفاقی حکومت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو نظر انداز کررہی ہے۔ قیدی کے پاس انتخاب کا حق نہیں ہوتا اس لیے ریاست اس کو اچھی سہولیات دے۔

جوائنٹ سیکرٹری وزارت صحت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ صوبوں کا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیسے آپ کہہ سکتے ہیں صوبائی معاملہ ہے حالانکہ انسانی حقوق کا تحفظ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے یہ تو اسلام کے بھی خلاف ہے، آپ کو کچھ اندازہ ہے کہ جیلوں میں کیا ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدی کو مجرم بنانا مقصد نہیں ہوتا بلکہ ان کی ذہن سازی کرنا ضروری ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس نے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

 

متعلقہ خبریں