‘ڈارک ویب کے مرکزی ملزم نے خیبر پختونخواہ میں کبھی سرکاری ملازمت نہیں کی’

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس کو بتایا گیا کہ بچوں سے بدفعلی کر کے  ویڈیو بنانے والے ڈارک ویب کے مرکزی ملزم سہیل ایاز نے بطور سرکاری ملازم خیبر پختونخواہ میں کبھی کام نہیں کیا۔

سیکریٹری صحت خیبر پختونخواہ اخوانزادہ خان نے قائمہ کمیٹی اجلاس کو بچوں سے زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم سہیل ایاز سے متعلق بریفنگ دی۔

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ ملزم ورلڈ بینک کے ساتھ تھا اور صوبائی حکومت نے فلاحی معاونتی منصوبے کے لیے باقاعدہ اشتہار دیا تھا۔ ورلڈ بینک سے این او سی ملنے کے بعد اسے کنسلٹنٹ رکھا گیا۔ نو ماہ کا پراجیکٹ ختم ہونے کے بعد ملزم سہیل ایاز کا کنٹریکٹ ختم  ہوا۔

سیکریٹری صحت اخونزادہ خان نے اجلاس کو بتایا کہ  ملزم سہیل ایاز فنانس سپیشلسٹ تھا۔ دوسرے دور (سیکنڈ فیز) میں دوبارہ اشتہار دیا گیا تھا، پالیسی پراجیکٹ تھا جس کے لیے ورلڈ بینک کے ذریعے اسے دوبارہ ہائر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈارک ویب کے مرکزی کردار سہیل ایاز کے معاملے کی پارلیمنٹ میں گونج

انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ اس شخص کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت تھی اور وہ اس معیار پر پورا اترتا تھا۔ میڈیا پر معاملہ سامنے آیا تو بہت بڑا دھچکہ لگا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بیرون ممالک میں جرائم میں ملوث افراد کا  ریکارڈ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کے حل کے لیے سیکریٹری داخلہ کو طلب کر لیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز