شہبازشریف خاندان کے اثاثے منجمد کرنے کا معاملہ: جائیداد کی تفصیلات عدالت میں جمع

سابق وزیراعلی، ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے تمام اثاثے منجمند کیے جائیں۔ شہباز شریف، ان کی بیگمات اور بیٹوں کی مختلف مقامات پر موجود 23 جائیدادیں ہیں۔

لاہور: قومی احتساب بیورو(نیب) نے شہبازشریف خاندان کی جو جائیداد منجمد کرنی ہے اس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی ہیں۔

احتساب عدالت کے جج چوہدری امیرمحمد خان نے معاملے کی سماعت کی اور دستاویزات جمع ہونے کے بعد فریقین کو دوبارہ 9 نومبر کو طلب کیا ہے۔

گزشتہ روز عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کون کون سے اثاثے منجمد کیے ہیں؟ جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ماڈل ٹاون کی دونوں رہائش گاہوں سمیت دیگر اثاثے شامل ہیں۔

جج نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے کہ یہ رہائشیں کب تعمیر ہوئیں اور ان کے نقشے کب منظور ہوئے؟

نیب نے عدالت کو بتایا تمام مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ جس پر عدالت نے حکم دیا تھا کہ ریکارڈ پیش کیا جائے

خیال رہے کہ نیب کے اسپشل پراسکیوٹر خافظ اسد اعوان نے شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز سمیت دیگر فیملی ممبران کی جائیدادیں منجمد کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سابق وزیراعلی، ان کی اہلیہ اور بیٹوں کے تمام اثاثے منجمند کیے جائیں۔ شہباز شریف، ان کی بیگمات اور بیٹوں کی مختلف مقامات پر موجود 23 جائیدادیں ہیں۔

متن میں درج ہے کہ ماڈل ٹاون 96 اور 87 ایچ کی 10 کنال کی رہائش گاہیں ہیں۔ چنیوٹ میں 2 مقامات پر 180 اور 209 کنال، ڈونگا گلی ایبٹ آباد میں 1 کنال ایک مرلے کے نشاط لاجز کو منجمد کیا جائے۔

درخواست گزار کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 5 کے بلاک میں 10، دس مرلہ کے دو گھر اور پیر سوہاوا کے قریب بھی 3 جائیدادیں سیل کرنی ہیں۔ حمزہ اور سلمان شہباز کے نام چنیوٹ میں واقع 182 کنال 7 مرلہ اور 209 کنال 4 مرلہ سے زائد کی 3 جائیدادیں بھی منجمد کی جائیں۔

نیب کے اسپشل پراسکیوٹر خافظ اسد اعوان نے موقف اپنایا کہ جوہر ٹاون میں 5 پانچ مرلہ کے 9 پلاٹ، جوڈیشل کالونی میں 1 کنال سے زائد کے 4 پلاٹس بھی سیل کرنے ہیں۔

چنیوٹ انرجی لمیٹڈ، رمضان انرجی، شریف ڈیری اور کرسٹل پلاسٹک انڈسٹری بھی فہرست میں شامل ہیں ۔ العریبیہ، شریف ملک پروڈکٹس، شریف فیڈ ملز، رمضان شوگر ملز اور شریف پولٹری کو منجمد کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز