ہم نے حکومت لی ہے لیکن ابھی نظام نہیں بدل سکے، فواد چوہدری

فائل فوٹو

لاہور: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہم نے حکومت لی ہے لیکن ابھی نظام نہیں بدل سکے ہیں،اب نظام کی تبدیلی کی جدوجہد جاری ہے۔

لاہور میں انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے وفد سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خیال ہے کہ طلبہ یونین بحال ہونی چاہیئے لیکن اس کے پیرامیٹرز طے کرنا ہوں گے۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن والوں کے گلے شکوے سنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کو پتا ہے کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کیا کرتی رہی ہیں، طلبہ کی سنڈیکیٹ میں نمائندگی ہونی چاہیے لیکن اس کے لئے طلبہ یونین ہونی چاہیے۔

فواد چودہری کا کہنا تھا کہ اگر طلبہ یونین نہ ہوئی تو ان کی سیاست کو لسانی یا مذہبی جماعتیں استعمال کرتی ہیں اس لئے بڑی جماعتیں ان کو قبول کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی کو پسند ہوں  یا نہ ہوں، ان کا قد سب سے بلند ہے۔ بے نظیر بھٹو کی طرح عمران خان ملک میں اس وقت ایک ہی لیڈر ہیں۔ اپوزیشن کے گلے شکوے اپنی جگہ لیکن آپ کو عمران خان کے ساتھ ہی گزارا کرنا پڑے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ مائنس ون پاکستان مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں میں ہوسکتا ہے۔ مائنس عمران کرتے کرتے اپوزیش خود مائنس ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کو اپنی قیادت تلاش کرنا پڑ رہی ہے۔ اب سب لندن میں جمع ہو رہے ہیں، ان کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔ وہ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں نئی تقریوں  کے معاملے پر کافی حد تک اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ شہباز شریف کے کھلنے والے حالیہ انکشافات کا اثر نہ پڑا تو جلد ہی الیکشن کمیشن کا معاملہ حل ہو جائے گا۔ اپوزیشن اصلاحات کی جانب آئے۔ سب کو حقیقیت کا ادراک کر کے ہی آگے چلنا چاہیے۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف کو پہلے واپس آنے میں 5 سال لگے، اب کی بار شاید 15 سال لگیں۔ سیاست کمزور دل لوگوں کا کام نہیں ہے۔ پنجاب کے آصف زرداری شہباز شریف باہر چلے گئے ہیں تو سندھ کے زرداری کا کیس بھی ایک جیسا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تاثر ہے کہ ادارے ایک دوسرے کے اختیارات لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ پارلیمان کیسے سپریم ہو سکتی ہے اگر اس کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کچھ اداروں کے بجٹ پر بحث نہ کر سکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ میں سید مراد علی شاہ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وہاں کی عوام نے کرنا ہے۔ وہاں کے حکمران خود عوام کی مشکلات کا خیال کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں 3 ٹریلین روپے خرچ ہوئے لیکن عوام کی حالت نہیں بدلی۔  908 ارب روپیہ پنجاب میں خرچہ ہوا ہے۔ ملک میں وزرائے اعلیٰ کا کوئی احتساب نہیں ہے۔ ہمیں اضلاع  کو ان کا حق دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری کا برطانیہ سے جلیا نوالہ باغ سانحہ پر معافی کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ہمیں کوئی پیسہ نہیں دے رہی اور سارے فنڈز جنوبی پنجاب میں لگائے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخواہ حکومت کو بی آر ٹی منصوبے کی شفاف تحقیقات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

فواد چودہدری نے کہا کہ  ملک میں سیاستدانوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن فوج اور عدلیہ پر عام بحث نہیں ہو سکتی ہے۔ آرمی چیف کے معاملے پر سیاست سے بالاتر ہو کر بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ جائے تو پھر حکومت اس پر فیصلہ کرے گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بڑے سقم ہیں۔ عدالت پارلیمان کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتی کہ قانون ایسا بنائیں۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ مزید 10 سیاستدانوں کے میڈیکل چیک اپ ہونے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز