وزیر اعظم اپنے مشیروں کے بجائے ماہر معاشیات کو سنیں، تاجر رہنما

اسلام آباد: چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اگر معیشت کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو اپنے مشیروں کے بجائے 10 سے 15 ماہر معاشیات کو اپنے سامنے بٹھائیں اور انہیں سنیں کیونکہ وزیر اعظم کو کوئی بھی تصویر کا حقیقی رخ نہیں دکھا رہا۔

ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ حکومت نے ایک چیز جو حاصل کی اور تجارتی کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ تھا جسے کم کر لیا ہے یہ کامیابی ہے اور اسے ماننا بھی چاہیے۔ حکومت نے گزشتہ سال کرنسی کو 35 فیصد گرایا اور سود کو بھی بڑھا دیا گیا۔ پیٹرول کی قیمتوں کے علاوہ بھی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے درآمد میں نمایاں کمی آئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے حقیقی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ ٹیکسٹائل میں ہی 12 فیصد کمی آئی جبکہ کپاس کی فصل بھی بری طرح ناکام ہو گئی۔ حکومت نے معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ایک بڑی قیمت ادا کی جس کی وجہ سے تاجر شدید پریشان ہیں۔

ماہر معاشیات نے کہا کہ حکومت نے معاشی سرگرمیوں کو روکا تھا تاہم اب معیشت کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس 8 ارب ڈالر ہیں لیکن سال کے اختتام پر ہمیں 12 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں اور یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج بہت اچھا ہے لیکن اسٹاک ایکسچینج معیشت کو ناپنے کا آلہ نہیں ہے۔ پاکستان کی 99 فیصد صنعت ڈاکومنٹیشن ہے۔ صنعتیں بڑھنے سے نوکریاں پیدا ہوتی ہیں لیکن یہاں تو نوکریاں ختم ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان گوگل پر جاکر دیکھیں کہ مہنگائی پر قابو کیسے کیا جا سکتا ہے انہیں کسی سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

انہوں ںے کہا کہ شرح سود 6 ماہ میں نیچے نہیں آیا یا ایک فیصد تک کم ہوا تو صنعتیں نہیں چل سکیں گی۔ حکومت کو مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی۔

سراج قاسم تیلی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان 10 سے 15 ماہر معاشیات کو اپنے سامنے بٹھائیں اور ان کو سنیں۔ زیادہ لوگ جو مشورہ دیں تو اس پر عمل کیا جائے۔ وزیر اعظم کو کوئی بھی تصویر کا حقیقی رخ نہیں دکھا رہا۔

چیئرمین بزنس مین پینل میاں انجم نثار نے کہا کہ بجٹ میں جو نیا ٹیکس کا نظام متعارف کرایا گیا ہے وہ آہستہ آہستہ کرنا چاہیے تھا۔ معیشت میں گراوٹ حکومتی رویے کی وجہ سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے تاجر مطمئن نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتیں اب چلنا مشکل ہو گئی ہیں اور موجودہ حالات صنعتوں کے لیے بہتر نہیں ہیں۔ حکومت سے اب تک جو باتیں ہوئی ہیں اس میں امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی۔ حکومت کو چاہیے کہ نئی ٹیکنالوجی کو ملک میں متعارف کرایا جائے تاکہ زراعت کو بڑھایا جا سکے۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ شرح سود کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شرح سود کے بڑھنے کی وجہ سے ہمیں ایک ہزار ارب روپے دینے پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ بڑھ گیا ہے اور موڈی نے بھی یہی کہا ہےکہ پاکستان کا تین سال تک شرح سود کم نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں چوری شدہ اور مشکوک گاڑیوں پر نظر رکھنے کا سافٹ ویئر تیار

انہوں نے کہا کہ شرح سود اگر کم نہیں ہوا تو ملک میں مزید مہنگائی بڑھے گی اور ہماری صنعتیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گی۔ گزشتہ 10 سالوں سے زراعت پر توجہ نہیں دی جا رہی جس کی وجہ کئی افراد دیہاتوں سے شہروں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اگلے سال تک مہنگائی ساڑھے 13 فیصد تک بڑھ جائے گی۔

ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ اگر شرح سود کم کیا جائے گا تو پیسہ نکل جائے گا۔ اس شرح سود پر معیشت نہیں چل سکے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز