سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے خلاف بچی کے اغوا کا مقدمہ درج

سابق صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے خلاف بچی کے اغوا کا مقدمہ درج

فوٹو: فائل

کوئٹہ: بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ اور ہلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر سر فراز بگٹی کے خلاف بچی کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

سینیٹر سرفراز بگٹی کے خلاف کوئٹہ کے بجلی گھر تھانے میں پولیس نے خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ جس میں درخواست گزار کی جانب سی کہا گیا کہ 7 دسمبر کو وہ اپنی 10 سالہ پوتی ماریہ علی کوان کے والد توکل علی سے ملانے کے لیے کوئٹہ کے فیملی عدالت لے کر گئی تھیں لیکن ماریہ کے والد توکل علی بگٹی نے ماریہ علی کو اغواَ کرلیا۔

ماریہ کے دادی کے بیان کے مطابق سال 2013 میں ان کی بیٹی سحرش بی بی کا قتل ہوا تھا۔ جس کے بعد عدالت نے پوتی ماریہ کی کفالت کی ذمہ داری دادی کے سپرد کی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق ہفتے کو عدالتی حکم کے مطابق ماریہ کو والد سے ملانے کے لیے فیملی کورٹ لائی تھی۔

درخواست گزار کے مطابق بچی کے والد توکل علی ان کی پوتی کو بزور طاقت فیملی کورٹ سے لے کر بھاگ گیا تھا اور بچی ماریہ کو سینیٹر سرفراز بگٹی کے گھر لے گیا۔

ماریہ کی دادی نے اپنی درخواست میں توکل علی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں جو قدم اٹھایا تھا وہ منزل پر پہنچ رہا ہے، مولانا فضل الرحمان

اس حوالے سے جب سینیٹر سرفراز بگٹی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ماریہ کے اغوا میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ توکل علی صرف اس کا دوست ہے اور مذکورہ واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک باپ بیٹی کا مسئلہ ہے جس میں انہیں خواہ مخوا ملوث کرنے کی کوشش کی گئی۔ے –

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز