نواز شریف کو جیل میں اذیت دی گئی، حسین نواز

نواز شریف کو شریانیں کھلوانے کیلئے امریکہ لے جا سکتے ہیں، حسین نواز

فوٹو: فائل

لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کو جیل میں اذیت دی جاتی رہی، ان کی میڈیکل رپورٹس جلد عدالت میں جمع کرا دیں گے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ لندن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو قید تنہائی میں رکھا گیا اور جیل میں اذیت دی جاتی رہی۔ بیگم کی وفات پر نواز شریف پر گہرا اثر ہے۔ باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا۔

نواز شریف کی بیماری سے متعلق انہوں نے کہا کہ پلیٹ لیٹس کو مستحکم رکھنے کے لیے ادوایات دی جا رہی ہیں۔ اُن کی میڈیکل رپورٹس چند دن تک آ جائیں گی جبکہ ڈاکٹرز نواز شریف کو دوران قید کچھ دیے جانے کی تحقیق کر رہے ہیں۔

حسین نواز نے سوال اٹھایا کہ نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے کیوں نیب آفس لایا گیا ؟ جبکہ نیب کی حراست سے قبل نواز شریف کے پلیٹ لیٹس 75 ہزار تھے لیکن دوسرے ہی روز 16 ہزار رہ گئے تھے۔ حقیقت جلد سامنے آ جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس جلد عدالت میں جمع کرا دیں گے۔ پلیٹ لیٹس متوازن ہونے کے بعد ہی نواز شریف کو لاحق امراض کا علاج شروع ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں نواز سزا کے باوجود آزاد، زرداری بے گناہ مگر قید میں، بلاول

اس موقع پر نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نواز شریف کو فالج ہونے کا شدید خطرہ ہے اور اس وقت ان کی طبیعت کو ٹھیک نہیں کہا جا سکتا۔ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس ہفتے میں دو مرتبہ چیک کیے جاتے ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ نواز شریف کی موجودہ میڈیکل صورتحال کی وجہ میں ایک بڑی وجہ ان کے ساتھ ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا سلوک بھی ہے۔ نواز شریف کو دوسرا ہارٹ اٹیک 24 اکتوبر کو ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز