چیئرمین ایف بی آر کا محصولات کے سالانہ ہدف پر نظرثانی کا اعتراف

نظرثانی شدہ ہدف پر آئی ایم ایف کو اعتراض نہیں ہوگا، شبر زیدی

کراچی: چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا ہے کہ محصولات کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا اور 5500 ارب روپے کے بجائے اب 5000 یا 5100 ارب روپے کی وصولی ہو پائے گی۔ اس نظرثانی شدہ ہدف پر آئی ایم ایف کو اعتراض نہیں ہو گا۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف سے 50.2 کھرب روپے کے محصولات حاصل کرنے کی بات کی گئی تھی اس لیے نئے ہدف پر انہیں بھی اعتراض نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے 280 ارب روپے کم رہی ہے جس کے باعث نظرثانی ضروری ہو گئی تھی، اس کمی کی وجہ برآمدات میں کمی ہے جو تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی ہم گزشتہ سال کے پہلے پانچ ماہ کے مقابلے میں 16 سے 17 فیصد زیادہ ٹیکس جمع کر چکے ہیں جبکہ سال مکمل ہونے تک یہ 30 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس مجموعی طور پر 3850 ارب روپے کے محصولات جمع ہوئے تھے جو موجودہ سال بڑھ کر 5000 ارب روپے سے زیادہ ہو جائیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ ریونیو کا 5 ہزار 500 کا ہدف اس لیے رکھا گیا کہ بڑا ہدف سامنے ہو گا تو کوشش بھی زیادہ ہو گی۔ اگر ہدف کم ہوتا تو اس کے لیے یقیناً کوششیں بھی کم ہوتیں۔

انہوں ںے کہا کہ کاروباری سرگرمی ہو گی تو ٹیکس بھی جمع ہو گا۔ پاکستان میں ایک افوا جو اڑائی جا رہی ہے کہ معیشت بہت نیچے آ گئی ہے لیکن ایسا نہیں ہے تاہم پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔

شبر زیدی نے کہا کہ پاکستان کی معاشی حالت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ ہم نے معاشی سطح پر ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو پاکستان کی 40 سے 50 سالہ تاریخ میں نہیں کیے گئے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے۔ نان ٹیکس ریونیو میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ہم سیلز ٹیکس میں شناختی کارڈ کی شرط کو لازم رکھنا چاہتے ہیں اس سے معیشت میں استحکام ہو گا۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس وقت ٹیکس دہندگان کی تعداد 25 لاکھ کے قریب ہے۔ پاکستان کا قانون ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ایک ہزار سی سی کی گاڑی ہو اور 5 سو گز کا مکان ہو اس نے ریٹرن فائل کرنا ہے اس کی آمدنی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس قانون پر عملدرآمد کرانے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسی معاشی سرگرمی بھی ہے جو ریکارڈ پر نہیں ہوتی اور بینک میں نہیں آتی جبکہ دوسری معاشی سرگرمی ایسی ہے جن کی رقم بینک میں آتی ہے لیکن وہ ٹیکس ریٹرن میں نہیں ہیں۔ بینک اپنے اکاؤنٹس کا ریکارڈ ایف بی آر کو دینا نہیں چاہتے تھے لیکن لاہور ہائی کورٹ نے ایف بی آر کے حق میں فیصلہ دیا۔

شبر زیدی نے کہا کہ میں نے پاکستان کے تمام بینک کے صدور سے ملاقات کی اور ان سے مذاکرات کامیاب ہوئے۔ بینکوں نے عدالتوں میں جمع کرائی گئی اپنی درخواستیں واپس لے لی ہیں جبکہ بینک اس وقت ہمیں آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی نہیں دے گا تاہم جن اکاؤنٹس کی تفصیلات ہم مانگیں گے وہ ہمیں فراہم کر دی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے تاجروں کی تمام انجمنوں سے بات کی اور ایک بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں شناختی کارڈ کی شرط کو لازم کرنا ہے جسے جنوری سے شروع کر دیا جائے گا۔ ہم ایک دو روز میں تمام مارکیٹوں میں تاجروں کی کمیٹیاں بنا رہے ہیں جو تاجروں کو رجسٹرڈ کرائیں گی۔ تاجروں کو ہم نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے جو چھوٹے اور بڑے تاجروں پر مشتمل ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ہمارے تاجروں سے معاملات طے پا گئے ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ تاجروں کا کاروبار متاثر ہو تاہم کچھ معاملات ہیں جو باہمی رضا مندی سے طے پا رہے ہیں۔ تاجروں کو اب ہماری باتیں سمجھ آ رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ملتان میٹرو کی وجہ سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان معیشت کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس لیے اسمگلنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے تاہم ہمیں معلوم ہے اب بھی یہ سلسلہ کہیں نہ کہیں سے جاری ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحد پر ہم اسکریننگ کا سسٹم لگا رہے ہیں جو اسمگلنگ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

شبر زیدی نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں 99 فیصد فکس ٹیکس ختم کر دیا ہے جو بہت بڑی تبدیلی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز