روشن سندھ کیس: قائم علی شاہ نیب ٹیم کے سامنے پیش

 پشاور ایئرپورٹ سے قائم علی شاہ کا بیگ غائب ہوگیا

فائل فوٹو

اسلام آباد: سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ روشن سندھ کیس میں تحقیقات کے حوالے سے قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی کے سامنے منگل کے روز پیش ہوئے۔

ذرائع کے مطابق نیب نے قائم علی شاہ کو روشن سندھ کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نیب کے سوالنامے کا تحریری جواب  جمع کروادیا۔

ذرائع کے مطابق نیب ٹیم  نے روشن سندھ کیس میں  سابق وزیر اعلی سندھ  کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق  تحقیقاتی ٹیم نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کی سربراہی میں قائم علی شاہ کا بیان رکارڈ کرایا۔

یہ بھی پڑھیں: گرفتاری کا خدشہ، قائم علی شاہ نے عدالت سے رجوع کرلیا

نیب میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ نیب کو معلوم ہے کہ ان کے پیپلز پارٹی کے لیے اچھے خیالات ہیں۔ ہماری قیادت اور دیگر لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ جب نیب کا نوٹس ملا تو معلوم ہوا کہ یہ کیس سندھ میں 2 سال قبل تفتیش ہوا  تھا۔ میرے کیس میں انہوں نے خود لکھ کر دیا تھا کہ بند کر دیجیے۔

سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ نیب ٹیم نے مجھ سے ابھی تک  جعلی اکاونٹس  کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ کیس  میں نیب کے دائرہ اختیار کے بارے میں بات کرو گا۔ مجموعی طور پر یہی خیال ہے کہ پارٹی سے زیادتی ہو رہی ہے۔

قائم علی شاہ نے ازراہ مذاق کہدیا کہ میری عمر 80 سال سے زائد ہے لیکن دل ابھی بھی جوان ہے۔ پیدل چلتا ہوں لیکن ایسی ویسی کوئی عادت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز