ڈی جی ماحولیات پنجاب کو عہدے سے ہٹادیا گیا

لاہور: اسموگ کنٹرول کرنے میں ناکامی پر ڈی جی ماحولیات پنجاب تنویر وڑائچ کو تبدیل کردیا گیا۔

ڈی جی ماحولیات نے دو ماہ قبل عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ تنویر وڑائچ نے اس حوالے سے بہتر اقدامات نہیں کیے۔

ذرائع کے مطابق محکمے کے ملازمین بھی سابق ڈی جی کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔

محکمہ ماحولیات کے زیر استعمال گاڑیوں کا پٹرول ایک ماہ سے ختم ہوچکا اور اس حوالے سے سابق ڈی جی کو سمری بھی بھیجی گئی تاہم عمل نہ ہوسکا۔

اس سے قبل سابق ڈی جی ماحولیات کمشنر آفس میں ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ تھے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے اسموگ کے خاتمے کےلئے حکومت پنجاب کی سفارشات منظور کی تھیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کی اڑھائی سو بسوں کو ہائیبرڈ یا الیکٹرک پر لے جانے کی سفارشات بھیجی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ کی 250 بسوں کو ہائیبرڈ یا الیکٹرک پر لے جانے کا منصوبہ ہے اور آئندہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کی نئی خریدی جانے والی بسیں ہائبرڈ، سی این جی یا بجلی پر چلیں گی۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ کا راج

اطلاعات ہیں کہ مستقبل میں پٹرول اورڈیز ل پر پبلک ٹرانسپورٹ چلانا ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔

حکومت پنجاب کی جانب سے وزیراعظم کو بھجوائی گئی سفارشات کے مطابق صوبے میں 60 ہزار کینال زمین پر جنگلات لگائے جائیں گے۔

اسٹیل رولنگ انڈسٹریز اور اینٹوں کے بھٹوں کو اگلے سال دسمبر تک زگ زیگ ٹیکنالوجی پرمنتقل کرنے کی حتمی ڈیڈلائن بھی مقرر کر دی گئی ہے۔

اسموگ کیا اور کتنی خطرناک ہے؟

دھند کے ساتھ گرد و غبار کے بادل فضائی آلودگی کی بد ترین شکل ہے جسے ماہرین اسموگ کا نام دیتے ہیں۔

اسموگ کارخانوں، ٹریفک کے دھوئیں اور جلنے والے زرعی فضلے کی باقیات دھند کے ساتھ ملنے کی وجہ سے بنتی ہے۔

2.5 میکروں فضائی آلودگی سے بننے والی اسموگ خطرناک نہیں ہوتی لیکن جب یہی درجہ 5 میکروں تک بڑھ جائے تو انسانی صحت کیلئے خطرناک ہوجاتی ہے۔

ماہرین ماحولیات اسموگ کی پیمائش کیلئے فضا میں ماحولیاتی آلودگی کے اعداد و شمار اکٹھے کرتے رہتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آلودگی کی حد کب خطرناک درجے سے تجاوز کر سکتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 150 انڈیکس تک فضائی آلودگی خطرناک نہیں ہے لیکن اگر یہی حد 200 سے تجاوز کر جائے تو خطرناک ہو سکتی ہے اور اگر 300 سے بھی بڑھ جائے تو انسانی صحت کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوجاتی ہے۔

اسموگ سے بچنے کیلئے شہریوں کو چاہیے کہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، زیادہ ٹریفک والی جگہوں پر مخصوص فلٹر والے ماسک پہن کر جائیں اور ڈرائیونگ دوران لائٹس کا استعمال کریں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز