میڈیکل کالجز پارٹ ٹائم تعلیمی ادارے بن چکے ہیں، ڈاکٹر شیر شاہ سید

کراچی: سابق سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ میڈیکل کالجز پارٹ ٹائم تعلیمی ادارے بن چکے ہیں اور حکومت نے بھی میڈیکل کے تعلیمی اداروں کو کاروبار بنا لیا ہے جس کی وجہ سے اب عوام کا ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں رہا۔

ہم نیوز کے پروگرام ایجنڈا پاکستان میں میزبان عامر ضیا سے بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ کئی میڈیکل کالجز میں بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں اور کسی بھی میڈیکل کالج میں تمام فیکلٹی بھی موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی میڈیکل کالج تو پارٹ ٹائم تعلیمی ادارے بن چکے ہیں اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والے میڈیکل کے طلبا بھی پارٹ ٹائم تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ پروفیسر صبح میں میڈیکل کالجز میں تعلیم دیتے ہیں اور بعد میں نجی کلینک کھول کر لوگوں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ پاکستان میں بہتر علاج کی سہولیات ہی موجود نہیں ہیں۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ میڈیکل کاروبار کا ذریعہ بن گیا ہے اور بڑے بڑے کاروباری افراد نے میڈیکل کے تعلیمی ادارے کھول لیے ہیں۔ سیلف فنانس پر داخلے دیے جا رہے ہیں جبکہ طلبا کے نمبر انتہائی کم ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے بہترین ڈاکٹر پیدا نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے عوام کا ڈاکٹروں پر اعتماد ہی نہیں رہا۔ حکومت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں کس طرح کے ڈاکٹرز کی ضرورت ہے اور وہی ڈاکٹرز پیدا ہونے چاہیئیں۔

سابق سیکرٹری جنرل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ اچھی حکومت اداروں کو درست کرتی ہے ختم کر کے نئے ادارے نہیں بنائے جاتے۔ حکومت یہ طے کر کے لیے ہم نے ڈاکٹر بنانے ہیں بلکہ میڈیکل کالجز میں کاروباری افراد پیدا نہیں کرنے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ہر جگہ پر میرٹ رکھنا چاہیے اور میرٹ کا قتل عام کسی صورت درست نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز