کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، وزیراعظم

وزیر اعظم 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

فوٹو: فائل

اسلام آباد: لاہور میں گزشتہ روز وکلاء کی جانب سے دل کے اسپتال پر حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

یہ بات انہوں نے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہی جو گزشتہ روز وکلاء کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ معاملات کو صبر و تحمل کے ساتھ سلجھایا گیا اور شرپسندوں کی سازش ناکام ہوئی۔

انہوں نے صوبائی وزیر کے موقع پر بروقت پہنچنے کی تعریف کرتے ہوئے ان پر ہونے والے تشدد کی مذمت کی۔

وزیراعظم نے معاملے کو جرات مندی کے ساتھ حل کرنے پر ان کے حوصلے کو سراہا اور کہا کہ فیاض الحسن چوہان جیسے لوگ پارٹی کا سرمایہ ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وزیراعظم کے درمیان بھی امن و امان کی صورتحال بات چیت ہوئی۔

وزیراعلیٰ کی جانب سے وزیراعظم کو پی آئی سی معاملے کی ابتدائی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔

گزشتہ روز وکلاء نے پی آئی سی پر حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ کی اور متعدد افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث تین افراد جاں بحق ہوگئے۔

مزید پڑھیں: کل کے واقعہ پر قوم سے معافی مانگتے ہیں، صدر لاہور ہائی کورٹ بار کونسل

بعدازاں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کارروائی کی گئی اور متعدد وکلاء کو حراست میں بھی لیا گیا۔

وکلاء نے ناصرف لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اسپتال اور باہر پارک کی گئی متعدد گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیے جبکہ ایک پولیس موبائل کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر(سی سی پی او) لاہور ذوالفقارحمید کے مطابق پی آئی سی پر دھاوا بولنے والے وکلا کیخلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے متعدد وکلا کو گرفتار کیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ذرائع سے فوٹیجز حاصل کی گئی ہیں جن سے ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار وکلا کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ہنگامہ آرائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز