سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ سے متعلق کیس  کی سماعت

ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: نامزد چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ  کے پانچ رکنی لارجر بینچ نےدیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈز سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ مزمل حسین سے استفسار کیا کہ اس (مہمند) ڈیم نے کب مکمل ہونا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے عدالت کو بتایا  کہ ڈیم 2025 تک بن جائے گا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2025 سے قبل دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل ممکن نہیں، کیوںکہ اس ڈیم کو بین الاقوامی معیار کا بنایا جارہا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہم نے صرف یہ دیکھنا ہے کہ آپ کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ یہ ڈیم آپ نے بنانا ہے اور یہ منصوبہ آپ کا ہے۔ اگر منصوبے کی راہ میں کوئی رکاوٹ آتی ہے تو عدالت کو بتایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ’پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کالا باغ ڈیم سے بہتر دیامر بھاشا ہے‘

عدالت نے استفسار کیا کہ سعادت انٹرپرائزز کون ہیں۔ سعادت انٹرپرائزز نے ٹھیکہ لیکر آگے حسنات برادرز کو دے دیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ کمیشن ایجنٹ ہیں؟

عدالت نے چیئرمین واپڈا کو ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرنے اور ایک ماہ میں رپورٹ عدالت میں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت موسم سرما کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔

خیال رہے کہ دریائے سوات پر تعمیر ہونے والا مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے سے یومیہ 800 میگاواٹ بجلی پیدا کی اور اس کی تعمیر پر تین ارب ڈالر لاگت ّئے گی۔ مہمند ڈیم پر کام 2025 تک مکمل ہوجائیگا۔

گلگت بلتستان کے ضلعے دیامر میں تعمیر کیا جانے والا دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے پر 14 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے 45 سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ ڈیم کا پانی آبپاشی اور پینے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز