برطانوی ڈاکٹرز نواز شریف کی بیماری ابھی تک تشخیص نہ کرسکے، ڈاکٹر عدنان

نواز شریف کا آپریشن 24 فروری کو ہونے کا امکان

فوٹو: فائل

لندن:  سابق وزیراعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے کہا ہے کہ کہ برطانوی ڈاکٹرز ابھی تک نوازشریف کی بیماری کی تشخیص نہیں کرسکے ہیں۔

لندن میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کتنے دن برطانیہ میں رہیں گے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لندن میں نوازشریف کی صحت کو ہر زاویے سے جانچہ جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ  نواز شریف کا لندن کے 6 مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ بریج اسپتال، گائز اسپتال، ہارلےکلینک، رائل بروپمٹن، ہارٹ کلینک اور ایچ سی اے میں نوازشریف کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے میڈیا کو بتایا کہ  نوازشریف کو ایماٹولوجسٹ کی ٹیم نے ابھی تک کلئیر قرار نہیں دیا ہے۔ نوازشریف کے دل اور شریانوں کا مسلسل معائنہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پلیٹ لیٹس غیر متوازی ہونے کی وجہ سے نوازشریف کا کسی بھی قسم کا پروسیجر نہیں کیا جاسکتا۔ نوازشریف کوامریکہ  لے کر جایا جائے گا ۔امریکہ میں نوازشریف کےدماغ کو خون مہیا کی جانے کروٹڈآرٹری میں سٹنٹنگ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی زہر خوارنی سے متعلق اسکریننگ کیے جانے کا امکان

ڈاکٹرعدنان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے جسم کے اندر پلیٹ لیٹس کی تعداد کم  یا ہونے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں کی جاسکیں ہیں جو کہ چیلنج بن گیا ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ دنیا کے بہترین ڈاکٹرز نوزشریف کا علاج کررہے ہیں۔ نوازشریف کی صحت کےحوالے سے میرے سیمت برطانوی ڈاکٹرز کوئی بھی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ نوازشریف کے جسمانی و دفاعی نظام میں خرابی کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔

شریف خاندان ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج  ڈاکٹرعدنان نے آج ایون فیلڈ رہائش گاہ پر ان کا چیک اپ کیا۔ لندن میں آج کسی بھی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ نہیں ہورہا ہے بلکہ وہ گھر پر ہی آرام کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز