خیبرپختونخوا کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد بچے اس بار بھی پولیو کے قطروں سے محروم

پشاور: پاکستان بھر میں پولیو کیسز کے حوالے سے سرفہرست رہنے والے صوبہ خیبرپختونخوا کے ایک لاکھ 61 ہزار بچے اس مرتبہ بھی انسداد پولیو مہم کے دوران حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہ گئے ہیں۔

مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ انسداد پولیو  مہم کے دوران 79 ہزار سے زائد انکاری کیس بھی سامنے آئے ہیں۔

انکاری کیسز میں صوبائی دارالحکومت پشاور 42 ہزار کیسز کے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ مردان سے 8 ہزار 722، ضلع کرم سے 6 ہزار 504 انکاری کیس رپورٹ ہوئے۔

شمالی وزیرستان سے 6 ہزار  343، صوابی سے 3 ہزار 470 سے پولیو کے انکاری کیسز سامنے آئے ہیں۔

مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق انسداد پولیو مہم کے دوران 67 لاکھ 47 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف رکھا گیا تھا تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر 1 لاکھ 61 ہزار بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہے۔

رپورٹ کے مطابق 82 ہزار سے زائد بچے تین روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران گھروں پر موجود نہیں تھے۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام کام کرنے والے ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) نے پاکستان میں پولیو کی صورتحال پر خوفناک انکشافات کیے تھے۔

پولیو کے عالمی ادارے نے پاکستان کے پولیو پروگرام کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نئی رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق رواں سال دنیا کے 80 فیصد پولیو کیسز پاکستان سے رپورٹ ہوئے۔

آئی ایم بی نے پاکستان سے متعلق اپنی رپورٹ میں پولیو پروگرام کی کاردکرگی کا پول کھولا تھا جس کے مطابق رپورٹ ہونے والے 90 فیصد کیسز پولیو سے متاثرہ علاقوں کے علاوہ ہیں، کراچی اور خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کی موجودگی کو دنیا میں مرض کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں پاکستان پولیو کے خاتمے کے قریب تھا لیکن پاکستان میں پولیو قطرے پلانے کی مہمات بری طرح ناکام ہوئی ہیں اور ملک میں سیاسی طور پر پولیو کے خاتمے کے لیے اتفاق رائے کا فقدان پایا گیا۔

سوشل میڈیا پر پولیو کے خلاف منفی پروپیگنڈے کو بھی پولیو پروگرام کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا، پشاور، کراچی اور کوئٹہ کے 69 فیصد ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ لاہورمیں لیے گئے 88 فیصد ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز